English Al Qamar Urdu جون 28, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

پنجاب حکومت کو بلدیاتی اداروں کی بحالی کیلئے 20 اکتوبر تک مہلت

القمر

اسلام آباد (صباح نیوز)عدالت عظمیٰ نے پنجاب کے بلدیاتی ادارے بحال نہ کرنے کیخلاف دائرتوہین عدالت کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے سابق اور موجودہ چیف سیکرٹری پنجاب کو نوٹس جاری کر دیے۔ جمعہ کو چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں جسٹس مظہر عالم خان میاں خیل پر مشتمل 2 رکنی بینچ نے عدالت عظمیٰ کی جانب سے پنجاب کے بلدیاتی اداروں کو بحال کرنے کے حکم پر عملدرآمد نہ کرنے کے خلاف دائر توہین عدالت کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے چیف سیکرٹری پنجاب کامران علی فضل اور سابق چیف سیکرٹری پنجاب جواد رفیق ملک کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ذاتی حیثیت میں 20اکتوبر کو طلب کر لیاجبکہ عدالت نے پنجاب حکومت کو صوبے کے بلدیاتی اداروں کو فعال کرنے کے لیے 20اکتوبر تک کی مہلت دے دی۔ دوران سماعت سیکرٹری لوکل گورنمٹ پنجاب نورالامین مینگل عدالت میں پیش ہوئے۔درخواست گزاروں میئر راولپنڈی سردار محمد نسیم خان، اسد علی خان اور دیگر کی جانب سے دائر درخواستوں میں چیف سیکرٹری پنجاب اور دیگر کو فریق بنایا گیا ہے۔ درخواست گزاروں نے نوازش علی پیرزادہ اور عباد الرحمن لودھی کے توسط سے درخواستیں دائر کی ہیں۔ درخواست گزار کے وکیل نوازش علی پیرزادہ نے عدالت کو بتایا کہ عدالتی حکم کے باوجود بلدیاتی ادارے بحال نہیں کیے گئے۔ چیف جسٹس گلزار احمد نے استفسار کیا کہ اب تک پنجاب حکومت کی جانب سے کیا کارروائی کی گئی؟اس پر سیکرٹری لوکل گورنمنٹ نے جواب دیا کہ مجھے وکیل کرنے کی مہلت دی جائے۔ چیف جسٹس نے سیکرٹری لوکل گورنمٹ کے جواب نہ دینے پر برہمی کااظہار کرتے ہوئے کہا کہ آپ سیکرٹری لوکل گورنمنٹ ہیں اور آپ کو کچھ معلوم ہی نہیں،کیا عدالت میں تفریح کرنے آئے ہیں؟آپ کو عدالت سے سیدھا جیل بھیج دیں گے۔یہ کس قسم کا سیکرٹری ہے جسے معلوم ہی نہیں اس کی ذمے داری کیا ہے؟ ۔دوران سماعت چیف جسٹس نے درخواست گزار کے وکیل سے استفسار کیا کہ عدالت نے پنجاب کے بلدیاتی اداروں کی بحالی کا کب حکم دیا تھا۔ اس پر وکیل نے بتایا کہ 25مارچ 2021ء کو بلدیاتی اداروں کی بحالی کا حکم دیا تھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے