کندھکوٹ(نمائندہ جسارت) مرکزی نائب امیر جماعت اسلامی اور سابق پارلیمانی لیڈر لیاقت بلوچ نے کہا ہے کہ وفاق اور سندھ میں جمہوریت کے دعویدار حکمرانوں کا بروقت بلدیاتی انتخابات نہ کرانا آئین سے انحراف اور عام شہریوں کو اپنے حقوق سے محروم رکھنا ہے۔سندھ میں پیپلزپارٹی تیسری بار اقتدار میں آنے کے باوجود یہاں کے عوام صحت تعلیم روزگار روڈ راستے سمیت زندگی کی بنیادی سہولتوں سے بھی محروم ہیں۔ اسٹیبلشمنٹ اور سیاستدانوں کو اب یہ شعور آجانا چاہیے کہ آئین سے انحراف اقدامات ملک و قوم کے لیے خطرناک ثابت ہوں گے۔ملک وقوم کی بہتری اسی میں ہے کہ تمام ادارے آئین و قانون کے مطابق اپنے دائرے کار میں رہ کر خدمات سر انجام دیں۔ کرپٹ قیادت و ظالمانہ نظام سے نجات اور نظام مصطفی کے نفاذ سے ہی عوام غربت و افلاس مہنگائی اور ناانصافیوں سمیت تمام مسائل سے نجات حاصل کر سکتے ہیں۔ جماعت اسلامی کرپشن فری اور اسلامی پاکستان کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے حیدری چوک رسالدار اور کشمور میں سیرتِ النبی کانفرنس سے خطاب اور میڈیا سے بات چیت کے دوران کیا۔اس موقع پر صوبائی نائب امیر ممتاز حسین سہتو، نائب قیم عبدالحفیظ بجارانی، ضلعی امیر آغا عبدالفتاح پٹھان ودیگر مقامی رہنماؤں نے بھی خطاب کیا۔ قبل زیں لیاقت بلوچ کا جلسہ گاہ پہنچنے پر شاندار استقبال اور سندھ کا روایتی تحفہ ٹوپی اور اجرک بھی پیش کیا گیا۔لیاقت بلوچ نے کہاکہ بلدیاتی نظام نہ ہونے کی وجہ سے شہری اپنے بنیادی مسائل کے حل کے لیے پریشان ہیں۔ عوام کا بجٹ عوام کی فلاح و بہبود پر خرچ کیا جاتا تو آج سندھ کے عوام محرومیوں کا شکار اور شہر کھنڈرات و کچراکنڈی میں تبدیل نظر نہ آتے۔ بیروزگاری سے نوجوان پریشان اور مہنگائی نے عوام کی زندگی تنگ کردی ہے۔ جماعت اسلامی مظلوموں کی آواز بن کر مہنگائی و بیروزگاری کے خلاف 31 اکتوبر کو اسلام آباد میں امیر جماعت اسلامی سراج الحق کی قیادت مارچ کرے گی۔ عوام خاص طور پر ڈگری ہولڈر نوجوان اس مارچ میں بھرپور شرکت کریں گے۔
