ماسکو (انٹرنیشنل ڈیسک) روسی وزارت دفاع نے کہا ہے کہ ایک روسی فوجی جہاز نے امریکی بحری بیڑے کی سمندری حدود کی مبینہ خلاف ورزی کی کوشش ناکام بنا دی۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی جنگی بیڑے یو ایس ایس چافی نے جاپان کے سمندر میں روسی علاقائی پانی کی خلاف ورزی کی کوشش تاہم اس کوشش کو ناکام بنا دیا البتہ ماسکو نے اس واقعے پر امریکا سے احتجاج کیا ہے۔ روسی وزارت دفاع نے واقعے کے بعد امریکی فوجی اتاشی کو طلب کر کے انہیں اس حوالے سے روس کی تشویش سے آگاہ کیا۔ کریملن نے مزید کہا کہ روسی وزارت دفاع نے امریکی سفارتکارکو طلب کرکے امریکی بیڑے کی جانب سے سمندری حدود کی خلاف ورزی کے واقعے کی مذمت کی۔ روسی خبر رساں ادارے انٹرفیکس کے مطابق وزارت دفاع نے انکشاف کیا کہ حادثہ بحیرہ جاپان میں روسی چینی بحری مشقوں کے دوران پیش آیا۔ روسی بحری جہاز کے عملے ایڈمرل ٹرائبٹس نے ایک بین الاقوامی مواصلاتی چینل پر امریکی بیڑے کے حکام کو خبردار کیا کہ اس طرح کی حرکتیں مناسب نہیں کیوں کہ امریکی بیڑا نیوی گیشن کے لیے ممنوعہ علاقے میں داخل ہوچکا ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ انتباہ ملنے کے بعد امریکی بیڑا چافی ممنوع علاقے کو چھوڑنے کے لیے اپنا راستہ تبدیل کرنے کے بجائے سطح سے ہیلی کاپٹر کے ٹیک آف کے لیے تیار ہونے کی نشاندہی کرنے والے رنگین جھنڈے بلند کیے جس کا مطلب ہے کہ راستے اور رفتار کو تبدیل کرنا ناممکن ہے۔
