English Al Qamar Urdu جون 27, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

امریکا ڈرون حملہ متاثرین کو زر تلافی دینے پر آمادہ

القمر

واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک) امریکی محکمہ دفاع نے یقین دہانی کرائی ہے کہ اس سال اگست میں غلطی سے کیے گئے ایک ڈرون حملے میں ہلاک ہونے والے افغان شہریوں کے خاندانوں کو زر تلافی ادا کیا جائے گا۔ پینٹاگون کے ترجمان جان کربی نے بتایا کہ یہ محکمہ امریکی وزارت خارجہ کے ساتھ مل کر متاثرہ خاندانوں کی امریکا منتقلی کی کوششیں بھی کر رہا ہے۔ 29اگست کو کابل میں ایک امریکی ڈرون حملے میں ایک گاڑی کو نشانہ بنایا گیا تھا، جس میں 10افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ ان میں 7 بچے بھی شامل تھے۔ پینٹاگون نے اس حملے کا اعتراف بھی کیا۔ اگست میں جب امریکی فوجی دستوں کا افغانستان سے حتمی انخلا اپنے آخری مراحل میں تھا اور کابل ائر پورٹ پر افراتفری کا ماحول تھا، تو اس وقت امریکا نے داعش کے شدت پسندوں کو نشانہ بنانے کے نام پر یہ ڈرون حملہ کیا تھا۔ اس حملے میں داعش کے عسکریت پسندوں کے بجائے 10 شہری مارے گئے تھے۔ امریکا نے اب ہلاک شدگان کے پسماندگان کو معاوضہ دینے کی بات تو کی ہے، تاہم یہ نہیں بتایا گیا کہ مالی تلافی کی رقم کتنی ہو سکتی ہے۔ امریکی محکمہ دفاع نے کہا ہے کہ اس سلسلے میں حکام یہ معلوم کرنے کے لیے امریکی محکمہ خارجہ کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں کہ آیا ہلاک شدگان کے لواحقین میں سے اگر کوئی امریکا منتقل ہونے میں دلچسپی رکھتا ہے، تو اس کی کیا مدد کی جا سکتی ہے۔ پینٹاگون نے کہا ہے کہ اس امریکی حملے میں غلطی کی تصدیق ہو جانے کے بعد امریکا نے متاثرہ خاندانوں کی مدد کا وعدہ کیا تھا، جس میں زر تلافی کی ادائیگی بھی شامل ہے۔ پینٹاگون کے ترجمان جان کربی کے مطابق امریکی محکمہ دفاع کی پالیسیوں کی نگران نائب وزیر دفاع کولن کیہل نے اس سلسلے میں ایک غیر سرکاری ادارے نیوٹریشن اینڈ ایجوکیشن انٹرنیشنل کے سربراہ ڈاکٹر اسٹیون کوون سے ایک ورچوئل ملاقات بھی کی۔ اسی تنظیم نے ضمیری احمدی کو افغانستان میں اپنی خدمات کے لیے ملازمت پر رکھا ہوا تھا، جنہیں امریکی خفیہ ادارے نے غلطی سے داعش کے ایک شدت پسند کے طور پر شناخت کر کے ڈورن حملے کا نشانہ بنایا تھا۔ انہوں نے ملازم کی ہلاکت پر بھی بات کی۔جان کربی کے مطابق اسٹیون کوون نے کولن کیہل کو بتایا کہ ڈرون حملے کا نشانہ بننے والی گاڑی ضمیری احمدی ہی چلا رہے تھے اور انہوں نے افغانستان میں کم خوراکی کے سبب موت کے خطرے سے دوچار بہت سے انسانوں کی مدد کرتے ہوئے ان کی جانیں بچائی تھیں۔ ضمیری احمدی کے ایک 22 سالہ بھتیجے نے گزشتہ ماہ ایک بیان میں کہا تھا کہ اس معاملے میں دور بیٹھ کر معذرت کر لینا ہی کافی نہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے