English Al Qamar Urdu جون 24, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

اسلام آباد لانگ مارچ: حکومت اور ٹی ایل پی میں تصفیہ کرانے کے لیے علما اور مذہبی رہنما متحرک

پاکستان کی حکومت نے کالعدم تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کو روکنے کے لیے مذہبی رہنماؤں اور علما سے کردار ادا کرنے کی اپیل کی ہے۔

مذہبی جماعت کے ساتھ مصالحت کی پیشکش کے بعد علما اور مذہبی رہنماؤں کا وفد وزیرِ اعظم عمران خان سے ان کی رہائش گاہ بنی گالا میں ملاقات کی ہے۔

مذہبی قائدین کے ساتھ حکومت کی بات چیت کے نتیجے میں ٹی ایل پی نے اپنے مارچ کو روک دیا ہے جو کہ جمعہ کی رات کو وزیر آباد پہنچا تھا۔

اس سے قبل حکومت ٹی ایل پی کے اسلام آباد کی جانب مارچ کو روکنے کے لیے نیم فوجی دستوں کی خدمات طلب کیں تھیں اور اعلان کیا تھا کہ کالعدم تحریک لبیک کے ساتھ عسکریت پسند گروہ کے طور پر سلوک کیا جائے گا۔

علما اور مذہبی رہنماؤں نے جمعے کی شب صدر عارف علوی سے ملاقات کی تھی اور تحریک لبیک سے مذاکرات کے ذریعے معاملات حل کرنے پر زور دیا تھا۔

صدر عارف علوی سے ملاقات میں علما کے وفد نے کالعدم تحریک لبیک کے ساتھ معاملات افہام و تفہیم سے حل کرانے کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کی پیشکش کی تھی۔

امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ حکومت اور تحریک لبیک پاکستان کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت ہو رہی ہے۔

تحریک لبیک پاکستان کے میڈیا کوآرڈینیٹر صدام بخاری کے مطابق حکومتی وزراء اور تحریک لبیک کے قائدین کے درمیان راولپنڈی میں مذاکرات ہوئے ہیں جس میں وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی اور اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر شریک تھے۔

کالعدم ٹی ایل پی کے کارکنوں کی پولیس سے جھڑپیں





please wait



No media source currently available

دوسری جانب کالعدم ٹی ایل پی کے لانگ مارچ کے قافلے ہفتے کی صبح وزیر آباد سے اسلام آباد روانگی کے فوری بعد قائدین کے فیصلے تک آگے جانے سے رک گئے۔

گوجرنوالہ سے صحافی احتشام شامی کے مطابق سیکیورٹی فورسز اور تحریک لبیک کے کارکن وزیر آباد میں کم و بیش 100 میٹر کے فاصلے پر آمنے سامنے ہیں۔

کالعدم جماعت ٹی ایل پی کا لانگ مارچ وزیر آباد میں جمعہ کے روز سے موجود ہے۔ لانگ مارچ کے شرکا نے رات ظفر علی خان بائی پاس پر بسر کی۔

شرکا نے ہفتے کو ناشتہ کرنے کے بعد اسلام آباد کی طرف پیش قدمی شروع ہی کی تھی کہ کچھ میٹر دور جاکر وہ رک گئے اور اسٹیج سے یہ اعلان کیا گیا کہ مرکزی قائدین کے حتمی فیصلے تک وہ آگے نہیں جائیں گے اور فی الحال یہاں رکے رہیں گے۔

پولیس حکام کے مطابق پولیس کی جانب سے لانگ مارچ کے شرکا کو چناب پل پر روکے جانے کے واضح احکامات ہیں۔ جس کے لیے دریائے چناب پل سے کچھ میٹرز پہلے خندق کھودی گئی ہے اور چناب کے پل پر کنٹینرز لگا کر اسے بند کیا گیا ہے جب کہ چناب پل پر پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری بھی موجود ہے۔ جنہوں نے پوزیشنیں لے رکھی ہیں۔

تحریکِ لبیک پاکستان کالعدم جماعت ہے یا نہیں؟





please wait



No media source currently available

دوسری طرف وزیر آباد اور گجرات بھر میں انٹرنیٹ سروس مکمل طور پر بند ہے۔ جس سے صارفین کو شدید مشکلات درپیش ہیں جب کہ گوجرانوالہ کا بذریعہ جی ٹی روڈ گجرات، جہلم اور اسلام آباد سمیت دیگر شہروں سے رابطہ 9 روز سے منتطع ہے۔

لاہور کی طرف جانے والی جی ٹی روڈ آج کھول دی گئی ہے، راستے بند ہونے سے بھی شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔

لاہور میں ہمارے نمائندے ضیاء الرحمن کے مطابق دریائے چناب ٹول پلازہ سے پہلے پانچ سو میٹر کو ریڈ ایریا قرار دیتے ہوئے رینجرز کے نیم فوجی دستے کے حوالے کردیا گیا یے۔

رینجرز نے بورڈ بھی آویزاں کر دیے ہیں کہ اس علاقے میں امن وامان کی ذمہ داری رینجرز کے پاس ہے لہذا تمام لوگ گھروں کو لوٹ جائیں۔

تحریک لبیک پاکستان کا احتجاجی مارچ مطالبات کی منظوری کے لیے جمعہ 22 اکتوبر کو لاہور سے اسلام آباد کے لیے روانہ ہوا تھا۔

یہ مارچ مختلف مقامات پر قیام کرتے ہوئے جمعہ کی شب گوجرنوالہ کے قریب وزیر آباد پہنچا تھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے