لاہور( این این آئی)وزیراعظم کے مشیر برائے تجارت و سرمایہ کاری عبدالرزاق دائود نے تاجروں اور صنعتکاروں کی جانب سے کیے گئے سیلز ٹیکس اور ریگولیٹری ڈیوٹی کم کرنے کا مطالبے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئی ایم ایف سیلز ٹیکس میں کمی کونہیں مانے گا،سیلز ٹیکس 17 فیصد ہی رہے گا،آئی ایم ایف کی ہدایت پر خام مال پر ریگولیٹری ڈیوٹی لگائی اسے بھی کم نہیں کرسکتے،برآمدات میں جدت لانا ہوگی،ہم نے تین سال میں برآمدات بڑھانے اور نئی مصنوعات کی برآمدات کیلیے اقدامات اٹھائے ہیں ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری میں منعقدہ اجلاس سے خطاب میں کیا ۔لاہور چیمبر کے صدر میاں نعمان کبیر، سینئر نائب صدر میاں رحمن عزیز چن ،نائب صدر حارث عتیق ، ایف پی سی سی آئی کے صدر ناصر حیات مگوں، لاہور چیمبر کے سابق صدور شیخ محمد آصف، میاں انجم نثار، شہزاد علی ملک، عرفان اقبال شیخ اورایگزیکٹو کمیٹی ممبران نے بھی اس موقع پر خطاب کیا۔ عبدالرزاق دائود نے بتایا کہ دسمبر جنوری کے بعد ٹی آئی آر کنونشن کے تحت نیا تجارتی روٹ شروع ہوجائے گا جس کے تحت کراچی سے ازبکستان اور ماسکو تک ٹرک براہ راست جائیں گے،اب تاجروں کو بارڈر پر ایرانی ٹرک نہیں لینا پڑیں گے، افغانستان نے کہا ہے پاکستان کا مال نہیں روکیں گے۔ انہوں نے کہا حکومت برآمدات بڑھانے کے لیے اقدامات اٹھا رہی ہے،ہم نئی عالمی منڈیوں تک بھی پاکستانی مصنوعات کی برآمدات کررہے ہیں۔ انہوںنے تسلیم کیا کہ بعض صنعتوں کے خام مال پر 50 فیصد تک ریگولیٹری ڈیوٹی عائد ہے، میں حیران ہوں کہ ان حالات میں انڈسٹری کیسے چلے گی، صنعتکاروں کی مشکلات سے وزیراعظم کو آگاہ کروں گا۔ انہوں نے کہا کہ مانتے ہیں کہ تجارتی اور کرنٹ اکائوخسارہ بڑھے ہیں تاہم ا سے معیشت کو کوئی خطرہ نہیں ،ہماری معیشت مضبوط ہے او ر اس خسارے کو برداشت کرسکتی ہے۔
