آگرہ /سری نگر (اے پی پی)بھارتی ریاست اتر پردیش کے شہرآگرہ میں وکلاتنظیموں نے ان تین کشمیری طلبہکو قانونی مدد فراہم کرنے سے انکار کر دیا ہے جنہیں ٹی۔20 کرکٹ ورلڈ کپ کے میچ
میںپاکستان کے ہاتھوں بھارت کی شکست کے بعد سوشل میڈیا پر پاکستانی کرکٹ ٹیم کی تعریف والے پیغامات پوسٹ کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔ کشمیر میڈیاسروس کے مطابق یوتھ لائرز ایسوسی ایشن آگرہ، آگرہ ایڈووکیٹ ایسوسی ایشن، جنپد بار ایسوسی ایشن، لائرز کارپوریشن کمیٹی اور آگرہ یوتھ وشال ایڈوکیٹ ایسوسی ایشن نے کہاہے کہ وہ کشمیری طلبہ کو قانونی مدد فراہم نہیں کریں گے۔آگرہ کے وکلا کی طرف سے قانونی مدد کی فراہمی سے انکار کے بعد گرفتار طلبہ ارشد یوسف، عنایت الطاف شیخ اور شوکت احمد گنائی کے اہلخانہ دوسرے شہروں میں وکلا سے رجوع کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ دوسری جانب بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموں و کشمیر میں نیشنل کانفرنس کے رہنمااور سابق وزیر اعلی عمر عبداللہ نے گرفتار تین کشمیری طلبہ کے ساتھ آگرہ عدالت میں وکلا کے سلوک کو نا قابل قبول قراردیا ہے۔ عمر عبداللہ نے ایک ٹویٹ میں کہاکہ وکلا کاآگرہ میں گرفتار کشمیری طلبہ کے ساتھ سلوک نا قابل قبول ہے اور پولیس کا کردار بھی مشکوک ہے۔انہوںنے کہاکہ کالج انتظامیہ کی یقین دہانی کو خاطر میں لانے کی بجائے پولیس ان لاچار بچوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔آگرہ کی ایک عدالت نے گزشتہ روز بغاوت کے الزامات کے تحت تینوں کشمیری طلبہکو 14روز کیلیے عدالتی حراست پر دیدیا ہے ۔
