محکمہ صحت کراچی میں کورونا 19 کے سامان میں 10 کروڑوں روپے کے فنڈز میں مبینہ خورد برد کی تحقیقات قومی احتساب بیورو(نیب) سندھ نے شروع کر دی ہے۔
نیب نے اس حوالے سے تمام ریکارڈ قبضے میں لے لیا ہے، اسکینڈل کے مرکزی کردار خلیل بھٹو کی جانب سے سیکریٹر ی صحت کی متوقع تبدیلی کے ساتھ دوبارہ پرانے منصب پر بحالی کی کوششیں بھی دم توڑ گئیں۔ تفصیلات کے مطابق کورونا 19 کی پہلی لہر کے دوران محکمہ صحت کراچی میںکروڑوں روپے کے مبینہ اسکینڈل کی محکمہ صحت سندھ نے ادھوری تحقیقات کی تھی تاہم اب یہ معاملہ نیب سندھ نے سنبھال لیا ہے۔
قومی احتساب بیورو سندھ کی جانب سے کورونا سامان کی خریداری کا ریکارڈ طلب کرنے پر محکمہ صحت کراچی کے ڈائریکٹر ہیلتھ سروسز کراچی ڈاکٹر اکرم سلطان نے نیب کو مذکورہ ریکارڈ فراہم کر دیا ہے جس سے ایک بار پھر محکمہ جاتی تحقیقات کرنے والے افسران میں ہلچل مچ گئی ہے جس میں سابق ڈائریکٹر کراچی ڈاکٹر ندیم شیخ سر فہرست بتائے جاتے ہیں۔
واضح رہے کہ ڈاکٹر ندیم شیخ نے اپنی تعیناتی کے فوری بعد خلیل بھٹو کو مذکورہ اسکینڈل کا مرکزی کردار ظاہر کر کے بعد ازاں حیرت انگیز طور پر یہ مﺅقف اختیار کر لیا تھا کہ یہ ان کا مینڈنٹ نہیں ہے جبکہ چیف لیگل آفیسر ڈاکٹر سکندر علی میمن نے خلیل بھٹو کو10کروڑ روپے کے مبینہ غبن میں ملوث بتایا تھا.
سیکریٹری صحت ڈاکٹر کاظم حسین جتوئی نے خلیل بھٹو کے خلاف ابتدائی انضباطی کارروائی کر تے ہوئے ان کا ضلع سکھر میں تبادلہ کر دیا تھا اور خلیل بھٹو ایڈمن آفیسر و اکاﺅنٹنٹ نے مذکورہ حکم پر عمل کرتے ہوئے رسمی طور پر سکھر جا کر جوائننگ تو دیدی تھی لیکن جوائننگ دیتے ہی عارضہ قلب کی بیماری کا سرٹیفکیٹ دے کر تاحال سکھر میں ایک دن بھی ڈیوٹی نہیں کی بلکہ حیرت انگیز طور پر سیکریٹری صحت ڈاکٹر خادم حسین جتوئی کے متوقع تبادلے کے باعث وزیر صحت کے اسٹاف آفیسر فہیم چاچڑ کے ذریعے دوبارہ پرانے منصب پر بحالی کے معاملات طے کر لئے تھے جو نیب کی مداخلت کے باعث کھٹائی میں پڑ گئے ہیں اس صورتحال میں محکمہ صحت کراچی میں کورونا فنڈز میں 10 کروڑ روپے کے مبینہ گھپلے نے ایک نیا رخ اختیار کر لیا ہے۔

