English Al Qamar Urdu جون 27, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

ماھولیاتی تبدیلیاں : پانی پر عالمی جنگ کا خطرہ

القمر

لندن (انٹرنیشنل ڈیسک) مختلف ممالک میں بڑے بڑے دریاؤں پر پانی ذخیرہ کرنے والے لاتعداد ڈیموں اور نہروں کی تعمیر کی وجہ سے اِن دریاؤں کے زیریں حصے پر واقع ملک پانی سے محروم ہو رہے ہیں، جس کی وجہ سے ان ملکوں میں جنگوں کے خطرات بڑھ رے ہیں۔ خبررساں اداروں کے مطابق دنیا کی ایک چوتھائی آبادی کو سال میں سے کم از کم ایک مہینہ پانی کی شدید قلت کا سامنا ہے ۔ پانی کی قلت دنیا کی 40 فیصد آبادی کو متاثر کرتی ہے اور اقوام متحدہ اور ورلڈ بینک کی پیش گوئیوں کے مطابق 2030 ء تک خشک سالی 70 کروڑ افراد کو بے گھر ہونے کے خطرے میں ڈال سکتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ’اگر پانی نہیں ہے تو سیاست دان اس معاملے پر اپنی سیاست کرنے کی کوشش کریں گے اور وہ اس پر لڑنا شروع کر سکتے ہیں۔بیسویںصدی کے دوران عالمی سطح پر پانی کا استعمال آبادی میں اضافے کی شرح سے دگنا بڑھ گیا۔ آج پانی کی یہ کمی کئی شہروں کی سیاست میں کلیدی معاملہ بنتا جا رہا ہیپانی کے بحران کو ورلڈ اکنامک فورم کے عالمی خطرات کے لحاظ سے فہرست میں شامل کیا تھا۔ 2012 ء کے بعد سے پہلے 5بڑے معاملات کی فہرست میں اسے اوپر رکھا گیا ہے۔ ۔ 2017 ء کی شدید خشک سالی نے دوسری جنگ عظیم کے بعد کے دور کا بدترین انسانی بحران پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ اس دوران افریقااور مشرق وسطیٰ کے دو کروڑ افراد خوراک کی کمی اور تنازعات کے باعث گھر چھوڑنے پر مجبور ہوئے۔ بین الاقوامی خبررساں اداروں کے مطابق کئی ممالک میں لوگ پانی کی قلت کے خلاف مظاہروں میں شرکت کرتے ہیں۔ یہ مظاہرے شہر میں پانی کے بڑھتے ہوئے بحران کے حل کے مطالبات پر زور ڈالنے کے لیے انتظامیہ کے خلاف کیے جاتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے