English Al Qamar Urdu جون 28, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

بائیڈن نےٹرمپ کی طرف سے معافی مانگ لی

القمر

گلاسگو (انٹرنیشنل ڈیسک) امریکی صدر جوبائیڈن نے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اقدام پرعالمی رہنماؤں سے معافی مانگ لی۔ گلاسگو میں جاری ماحولیاتی کانفرنس سے خطاب میں ان کا کہنا ہے کہ امریکا پیرس معاہدے سے باہر نکلنے کے باعث پیچھے رہ گیا۔ جوبائیڈن نے کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ موسمیاتی تبدیلی کے پیرس معاہدے سے دستبردار ہوگئی تھی۔ میں گزشتہ انتظامیہ کے پیرس معاہدے سے باہر نکلنے پرمعافی مانگتا ہوں ، کیوں کہ اس کی وجہ سے ماحولیاتی تبدیلیوں کے خلاف مؤثر اقدامات نہیں کیے جاسکے۔ میں نے صدارت کاحلف اٹھاتے ہی پیرس معاہدے میں شمولیت کا اعلان کیا تھا۔ امریکی عوام 5سال پہلے موسمیاتی تبدیلی کی حقیقت سے آگاہ نہیں تھے۔ انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کے امریکا میں بھی واضح اثرات نظر آرہے ہیں۔ یاد رہے کہ یکم جون 2017ء کوامریکی صدر ٹرمپ نے پیرس میں ہونے والے عالمی ماحولیاتی معاہدے سے دستبردار ہونے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس فیصلے سے امریکہ کے یورپی اتحادیوں کے ساتھ اختلافات مزید گہرے ہوئے۔ 2015ء میں 200 سے زائد ممالک نے پیرس میں معاہدے پر رضامندی ظاہر کی تھی۔ ریپبلکن پارٹی کے 22 سینٹروں نے ٹرمپ کو خط لکھا تھا کہ وہ موسمیاتی تبدیلی کے معاہدے سے دستبردار ہوجائیں ، جس کی وجہ سے ٹرمپ نے انتہائی فیصلہ کیا تھا۔گلاسگو کانفرنس میں صدر جو بائیڈن نے ماحول کو صاف رکھنے کے لیے منصوبوں کا اعلان کیا، جس میں 2050 تک ملک کو کاربن فری بنانے کا وعدہ بھی شامل تھا۔ انہوں نے امریکا کے منصوبوں میں ہوا، شمسی توانائی اور دیگر ماحول دوست قابل تجدید ذرائع پر انحصار کرنے کا وعدہ کیا۔ اس کے علاوہ الیکٹرک گاڑیوں اور دیگر منصوبوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے ایندھن پر انحصار ختم کرنے کا اعلان کیا۔ واضح رہے کہ دنیا کے درجنوں ممالک 12 نومبر تک جاری رہنے والی اس سی او پی 26 نامی کانفرنس میں دنیا کے مجموعی درجہ حرارت کو کم رکھنے سمیت آب و ہوا کو صاف رکھنے کے لیے وعدے کر رہے ہیں۔ امریکاکا شمار دنیا کے اْن ممالک میں ہوتا ہے جہاں صنعتوں کے فضلات اور ایندھن جلانے سے پیدا ہونے والی آلودگی کے اثرات کا پوری دنیا کو سامنا کرنا پڑتا ہے۔ امریکاکے علاوہ چین، بھارت اور روس بھی اْن ممالک میں شامل ہیں جہاں ماحولیاتی آلودگی دیگر ممالک کے لیے بھی خطرہ بن رہی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے