بیجنگ (انٹرنیشنل ڈیسک) چین کی حکومت نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ ہنگامی حالات کے پیش نظر روز مرہ کے استعمال میں آنے والی اشیائے ضروریہ کو ذخیرہ کر لیں۔ یہ ہدایت سبزی کی قیمتوں میں حالیہ اضافے اور ترسیل میں کمی کے خدشے کے بعد سامنے آئی ہیں۔ وزارتِ تجارت نے پیر کی شب ایک بیان میں کہا ہے کہ حکام اشیا کی ترسیل اور قیمتوں کے استحکام کو یقینی بنانے کے لیے اپنا کردار ادا کریں اور اشیا کی ترسیل میں کسی بھی مشکل کی صورت میں پیشگی اطلاع کریں۔ چین میں گزشتہ ہفتے کھیرے، پالک اور گوبھی کی قیمتوں میں اضافہ ہوا تھا۔ صوبے شین ڈونگ میں سبزیوں کی قیمتوں پر نظر رکھنے والے ادارے کے اعداد و شمار کے مطابق ایک کلو گوشت کے مقابلے میں پالک کی قیمت بڑھ کر 16 یان ہوگئی ہے۔ چین میں کورونا وائرس کے بڑھتے ہوئے کیسوں کے بعد لاک ڈاؤن اور غیر معمولی بارش کے نتیجے میں ہونے والے نقصان کے باعث سبزیوں کی ترسیل متاثر ہوئی ہے۔ خبر رساں اداروں کے مطابق اشیا ذخیرہ کرنے سے متعلق چین کی وزارتِ تجارت کی جانب سے جاری کردہ ہدایت سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی اْن خبروں کے بعد سامنے آئی ہیں ، جن میں کہا جا رہا تھا کہ تائیوان کے ساتھ کشیدگی بڑھنے کے امکانات ہیں۔ حکومت کے حمایت یافتہ اخبار اکنامک ڈیلی نے کہا ہے کہ انٹرنیٹ پر معلومات پھیلانے والے بے بنیاد معلومات کا پرچار کر رہے ہیں ، جب کہ وزارتِ تجارت کی ہدایات شہریوں کو کورونا وائرس کے لاک ڈاؤن کی صورت میں مشکلات سے نکالنے کے لیے ہے۔ سرکاری ٹی وی پر پیر کی شب نشر ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا کہ قیمتیں بڑھنے کے خدشے سے نمٹنے کے لیے چین سبزیوں کے اپنے ذخیروں کو سامنے لانے کا بھی ارادہ رکھتا ہے۔ البتہ یہ واضح نہیں ہے کہ حکومت نے کن سبزیوں کا ذخیرہ کر رکھا ہے اور وہ کون سے ذخائر ہیں ، جہاں بڑی تعداد میں سبزیاں رکھی گئی ہیں۔ وزارتِ تجارت نے صوبائی انتظامیہ کو ہدایت کی ہے کہ وہ سبزیوں کو خرید کر اسے ذخیرہ کر لیں ، تاکہ ہنگامی صورت میں اس کی تقسیم بہتر طریقے سے کی جا سکے۔وزارتِ تجارت نے مزید کہا ہے کہ قیمتوں سے متعلق معلومات کے علاوہ اشیا کی طلب و رسد کا جائزہ لیا جائے گا، تاکہ شہریوں کی توقعات کے مطابق معاملات کو چلایا جا سکے۔چین کی وزارتِ زراعت کے مطابق ملک میں اس وقت تقریباً 67 لاکھ ایکڑ رقبے پر سبزیاں کاشت کی جا رہی ہیں۔ کوونا وبا کے دوران غذائی ضرورت پوری کرنے پر چین کی خاص توجہ ہے۔
