English Al Qamar Urdu جون 28, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

ایتھوپیا میں ملک گیر ہنگامی حالت نافذ

تیگرائے (ایتھوپیا): لڑائی میں ناکارہ ہونے والا ٹینک سڑک کنارے کھڑا ہے‘ چھوٹی تصویر باغیوں کے ہاتھ گرفتار ہونے والے فوجیوں کی ہے

ادیس ابابا (انٹرنیشنل ڈیسک) ایتھوپیا میں حکومت نے ملک گیرایمرجنسی نافذ کردی اور عوام سے دارالحکومت ادیس ابابا کا دفاع کے لیے تیار رہنے کو کہا ہے۔ تیگرائے خطے کے 2 اہم شہروں پر قبضہ کرنے کے بعد جنگجوؤں نے قومی دارالحکومت کی طرف کوچ کرنے کی دھمکی دی ہے۔ حکومت کے مطابق ایمرجنسی نافذ کرنے کا مقصد ملک کے کئی حصوں میں تیگرائے پیپلز لبریشن فرنٹ (ٹی پی ایل ایف) کی جانب سے کی جانے والی زیادتیوں سے شہریوں کی حفاظت کرنا ہے۔ یہ گروہ گزشتہ ایک برس سے وفاقی حکومت کے ساتھ جنگ لڑ رہا ہے اور گزشتہ دنوں اس نے اسٹرٹیجک لحاظ سے اہم امہارا ریاست کے 2 اہم شہروں پر قبضہ کرلیا تھا۔ حکومت نے فی الحال 6 ماہ کے لیے ایمرجنسی کا اعلان کیا ہے۔ اس کے تحت انتظامیہ کو سڑکوں پر رکاوٹیں کھڑی کرنے، ٹرانسپورٹ سروسز کو معطل کرنے، کرفیو نافذ کرنے اور بعض علاقوں کو فوج کی تحویل میں دینے سمیت کئی اختیارات حاصل ہوگئے ہیں۔ باغی گروہ سے تعلق رکھنے کے شبہے میں کسی بھی شخص کو عدالت کے حکم کے بغیر گرفتار بھی کیا جا سکے گا، جب کہ فوجی خدمات کی عمر کو پہنچ جانے والے کسی بھی شہری کوجنگ میں شامل ہونے کے لیے طلب کیا جا سکتا ہے۔ وزیر انصاف گیوڈیون ٹموتھیوز نے سرکاری میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا ملک اپنے وجود، خودمختاری اور اتحاد کے لیے ایک سنگین خطرے سے دوچار ہے۔ ہم ان خطرات کو عام قوانین اور ضابطوں کے ذریعے ٹال نہیں سکتے۔ انہوں نے کہا کہ ایمرجنسی کی خلاف ورزی مثلاً دہشت گرد گروہوں کو مالی، مادی یا اخلاقی مدد کرنے والوں کو 3 سے 10برس تک کے لیے جیل میں ڈال دیا جائے گا۔ حکومت نے یہ قدم حالیہ دنوں میں امہارا میں اسٹرٹیجک لحاظ سے اہمیت کے حامل 2 شہروں ڈیزی اور کومبلوچا پر تیگرائے جنگجوؤں کے قبضے کے بعد اٹھایا ہے۔ جنگجووں کے اشاروں سے لگتا ہے کہ وہ دارالحکومت ادیس ابابا کی جانب بھی کوچ کرسکتے ہیں۔

 

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے