
عمان (انٹرنیشنل ڈیسک) اردنی پارلیمان کی فلسطین کمیٹی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اعلان بالفورکی آڑ میں فلسطینیوں کے وطن پر ڈاکاڈالا گیااور عالمی قوتوں نے ایک ناجائز ریاست کی بنیاد رکھی۔ یہ ایسا جرم تھا جو مسلسل بڑھتا جا رہا ہے۔ اردنی پارلیمانی کمیٹی کا کہنا ہے کہ اعلان بالفور کو جاری ہوئے104 سال ہوگئے ہیں۔ یہ ایک متنازع اعلان تھا، جس میں ایک ایسی قوم کو وطن کا حق دیا گیا جو اس کے لائق نہیں تھی۔ اس کی آڑ میں اسرائیلی ریاست کا قیام عمل میں لایا گیا اور ارض فلسطین پرصہیونی ریاست کا جبر مسلط کیا گیا۔ بیان میں فلسطینی قوم کے حقوق کی حمایت کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ فلسطینی قوم کو اپنے حقوق کے حصول کا حق حاصل ہے۔دوسری جانب اسلامی جہاد نے اپنے بیان میں زور دے کرکہا ہے کہ اعلان بالفور ایک خطرناک سازش تھی،جس کے ذریعے فلسطین میں ناجائز صہیونی ریاست کا قیام عمل میں لانے کی راہ ہموار ہوئی۔ اسلامی جہاد کی طرف سے جاری ایک بیان میں عالمی برادری پر زور دیا گیا کہ وہ اپنے فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی ریاست کے جرائم کی روک تھام کے حوالے سے اپنی ذمہ داریاں پوری کرے۔ برطانوی استبداد نے یہودیوں کو فلسطین میں اپنے وطن کے قیام کا تحفہ فراہم کیا۔ جب سے یہ اعلان بالفور جاری کیا گیا ہے اس کے بعد سے فلسطینی قوم یہودی آباد کاری، قبضے، قتل، گرفتاریوں اور دیگر جرائم کا سامنا کررہی ہے۔ اس سب کے باوجود صہیونی ریاست کو عالمی مجرمانہ غفلت کے ذریعے معاونت فراہم کی جا رہی ہے۔ادھر اسلامی تحریک مزاحمت حماس کے سیاسی شعبے کے سربراہ اسماعیل ہنیہ نے کہا ہے کہ اردن ایک برادر ملک اور بیت المقدس کی نبض ہے۔ اردنی اور فلسطینی قوموں کا مستقبل ایک ہے اور دونوں یک جان دو قالب ہیں۔
