
نیپیداؤ (انٹرنیشنل ڈیسک) اقوام متحدہ میں سابق امریکی سفیر بل رچرڈسن نے میانمر کا دورہ کیا اور فوجی سربراہ من ہلینگ سے ملاقات کی۔ خبررساں اداروں کے مطابق بات چیت کے دوران ایشیا کے جنوب مشرقی ملک میں کورونا وائرس کی صورت حال اور دیگر امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ میانمر فوج کا کہنا ہے کہ اپنے دورے میں رچرڈسن نے دارالحکومت نیپیداؤ میں فوجی جنرل من ہلینگ سے مذاکرات کیے۔ موضوعات میں کورونا وائرس ویکسین کے حصول میں امریکی معاونت کا معاملہ شامل تھا۔ دورے سے قبل جاری کردہ بیان میں رچرڈسن نے کہاتھا میانمر کے دورے کا مقصدکورونا ویکسین، طبی امدادی سامان اور صحت عامہ کی دیگر ضروریات کی فراہمی پر تبادلہ خیال کرنا ہے۔ ادھر خبررساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس نے امریکی وزارت خارجہ کے حوالے سے بتایا کہ بل چرڈ سن کا دورہ نجی نوعیت کا تھا اور امریکی حکومت کی جانب سے اس میں تعاون شامل نہیں رہا۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ سابق سفیر تجربہ کار مذاکرات کار ہیں جو آمر حکومتوں کے ہاتھوں یا تنازعات سے متاثر علاقوں میں زیر حراست افراد کی رہائی میں معاونت کر چکے ہیں۔ رچرڈسن کا دورہ امریکی صحافی کے سلسلے میں ہو سکتا ہے جسے میانمر کی فوج نے پکڑ کر جیل میں ڈال رکھا ہے۔
