پاکستان اور بنگلہ دیش کو ماضی بھلا کر روشن مستقبل کی طرف بڑھنا ہوگا۔ دنیا کے نقشے پر بڑی
تیزی سے تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں۔ نئے اتحاد بن رہے ہیں۔ کل کے دشمن آج گلے لگ رہے ہیں۔
دنیا کے بڑے بڑے ممالک علاقائی سیاست پر توجہ دے رہیں۔ چین جیسی ابھرتی طاقتیں اپنے ہمسایہ
ممالک کو ساتھ ملا کر نئے اتحاد بنا رہی ہیں۔
ازل سے آپسی دشمن سمجھنے جانے والے ایران اور سعودی عرب میں قربتیں بڑھ رہی ہیں۔ فلطینیوں
پر ظلم و ستم روا رکھنے والے اسرائیل تک سے عرب ممالک نے قربتیں بڑھا لی ہیں۔ اس سب کے پیچھے
ان ممالک کی بادشاہت کے ساتھ ساتھ عوام اور ملک کی فلاح کا مقصد کار فرما ہے۔
دنیا کی بڑی اقوام ماضی کے بڑے بڑے تلخ تجربات کو بھلا کر اپنی عوام کی بہتری کے لیے نئے
سفر کا آغاز کر رہی ہیں۔
ایسے میں اب پاکستان اور بنگلہ دیش کے لیے بھی وقت آگیا ہے کہ ماضی کو بھلا کر آگے بڑھا جائے۔
دونوں ممالک میں باہمی تجارت کو بڑھانے کا پوٹینشل موجود ہے جس کا براہ راست فائدہ دونوں
ممالک کے غریب عوام کو ہوگا۔
کورونا نے پاکستان اور بنگلہ دیش کو باور کروا دیا ہے کہ دونوں ممالک دنیا کی بڑی مارکیٹس ہیں۔
آبادی زیادہ اور مین پاور سستی ہونے کی وجہ سے دونوں ممالک مل کر دنیا کی بڑی بڑی مارکیٹس
پر غلبہ حاصل کر سکتے ہیں۔
پاکستان بنگلہ دیش دوستی پر لاہور میں کل جماعتی کانفرنس کا اعلان
دنیا میں اس وقت ٹیکسٹائل میں پاکستان بنگلہ دیش نمایاں نام رکھتے ہیں۔ دونوں ممالک کی معیاری اشیا
کی دنیا بھر میں مانگ ہے۔
اسی طرح چاول سے لیکر دیگر زرعی اجناس بھی دنیا بھر میں ذائقے اور معیار کی وجہ سے اپنی پہچان آپ ہیں۔
مگر بدقسمتی سے بنگلہ دیش کی پاکستان سے علیحدگی کے بعد دونوں ممالک میں کھیچاؤ رہا اور بعض
وجوہات کی بنا پر دو اسلامی بھائیوں کو قریب لانے پر توجہ دی جا سکی۔
مسلمانوں کو تقسیم کرنے کی سیاست پر یقین رکھنے والوں کی سازش کے دونوں اطراف ایک
دوسرے کے خلاف بداعتمادی اور غم و غصہ کی فضا بنی رہی اس کی بنیادی وجہ روابط کا فقدان تھا۔
دونوں ممالک نے امریکا اور جاپان جیسے ممالک کی مثالوں کو نظر انداز کیے رکھا کہ وہ ممالک
جنہوں نے عالمی جنگوں میں ایک دوسروں تہس نہس کر کے رکھ دیا تھا اب وہ بھی باہمی آپس میں
دوطرفہ تجارت جاری رکھے ہوئے ہیں اور دنیا کی مارکیٹس پر غلبہ حاصل کیے ہوئے ہیں۔
حالیہ چند برسوں میں دونوں ممالک نے آپس میں تعلقات کے فروغ کے لیے کچھ سنجیدہ اقدامات اٹھائے
ہیں۔ سفارتی عملے نے بداعتمادی کی فضا کو ختم کرنے میں بھرپور کردار ادا کیا ہے۔
پاکستان اور بنگلہ دیش جنوبی ایشیا کی دو بڑی معاشی طاقتیں ہیں۔ ان ممالک کے شہریوں کے دل تو
ایک دوسرے کے لیے دھرکتے ہی ہیں جس کی ایک مثال پاکستان کی بھارت کو شکست کے بعد بنگلہ دیش
میں جشن کی شکل میں نظر آئی ہے۔
اب دونوں ممالک کے کاروباری وفود نے بھی آپسی تجارت پر کام شروع کیا ہے جسے دونوں حکومتوں
کی حکومتوں کی بھرپور حمایت حاصل ہے۔
اگر پاکستان اور بنگلہ دیش اسی طرح دوطرفہ تجارت پر توجہ دیں تو ان کی مشترکہ تجارت کا حجم
2000 ملین ڈالر سے بھی بڑھ سکتا ہے۔ اسی طرح دونوں ممالک غیر فعال سارک تنظٰم کو بھی دوبارہ
سے فعال بنانے میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔
پاکستان دفاعی ٹیکنالوجی میں دنیا کے کئی بڑے ممالک سے آگے بڑھ چکا ہے۔ پاکستانی ساختہ اسلحہ،
ٹینکس اور JF-17 کی ڈیمانڈ دنیا بھر میں ہے۔ پاکستان کی افواج دو دہائی سے زیادہ عرصہ سے
دہشت گردی کے خلاف فرنٹ لائن آرمی کے طور پر لڑ رہی ہیں اور انتہائی تربیت یافتہ ہیں۔
بنگلہ دیش پاکستان کے اسلحہ، فوجی مہارت اور انٹیلی جنس اداروں کے تجربے سے مستفید ہو کر
اپنی افواج کو مضبوط کر سکتا ہے۔
خطے میں تیزی سے رونما ہوتی تبدیلیوں اور بھارت کی بنگلہ دیش کے لیے حالیہ نفرت کو دیکھ کر
دونوں دوست ممالک کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ ماضی کی تلخ یادوں کو بھلا ایک نیا سفر شروع کیا
جائے جس کا فائدہ دونوں ممالک کے عوام کو ہوگا۔
