English Al Qamar Urdu جون 29, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

ہریانہ میں نماز جمعہ کے 8 اجتماعات پر پابندی

نئی دہلی: کرم جیت سنگھ کے جسم پر ’’آتنک وادی‘‘ لکھا ہوا ہے

چندی گڑھ (انٹرنیشنل ڈیسک) بھارتی ریاست ہریانہ کی ضلعی انتظامیہ نے مسلمانوں کے خلاف فیصلہ سناتے ہوئے 8مقامات پرنماز جمعہ کے اجتماعات پہ پابندی عائد کردی۔ خبررساں اداروں کے مطابق ہریانہ کے ضلع گڑ گاؤں کی انتظامیہ نے انتہاپسند ہندوؤں کی ہنگامہ آرائی کے باعث متنازع فیصلہ کیا۔ گڑ گاؤں میں شرپسند مسلسل ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کررہے تھے کہ وہ کسی بھی طرح نماز جمعہ کے کھلے مقامات میں اجتماعات پر باقاعدہ پابندی عائد کرے۔ اس سے قبل انتظامیہ کی باقاعدہ اجازت سے 37 مقامات پر نماز جمعہ کے اجتماعات منعقد ہوتے ہیں۔ جن علاقوں کے اجازت نامے منسوخ کیے گئے ہیں ان میں بنگالی بستی سیکٹر 49، وی بلاک ڈی ایل ایف فیز3 اور سورت نگر شامل ہیں۔دوسری جانب بھارتی ریاست پنجاب کی جیل حکام نے حقوق کے لیے آواز اٹھانے والے قیدی کے جسم پر گرم سلاخوں سے ’آتنک وادی ‘ لکھ دیا۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق عدالت میں زیر سماعت قیدی نے جیل حکام پر انسانیت سوز تشدد کا الزام عائد کیا،جب کہ پولیس نے اس کی تردید کی ہے۔ برنالا ضلع میں زیر سماعت قیدی 28 سالہ کرم جیت سنگھ انسداد منشیات قانون کے تحت ایک کیس کے تحت قید ہے۔ مدعی نے حلفیہ بیان میں کہا کہ جیل میں قیدیوں کی حالت انتہائی قابل رحم ہے۔ جن قیدیوں میں ایڈز اور ہیپاٹائٹس جیسی بیماریوں کی تشخیص ہوچکی ہے انہیں بھی الگ وارڈوں میں نہیں رکھا جاتا ہے۔ اس نے جب کبھی قیدیوں کے ساتھ خراب سلوک کا معاملہ اٹھانے کی کوشش کی تو جیل سپرنٹنڈنٹ نے بری طرح زدو کوب کیا۔ پنجاب میں اپوزیشن جماعت اکالی دل کے ترجمان منجندر سنگھ سرسا نے کئی تصویریں ٹوئٹ کیں، جس میں کرم جیت سنگھ کی پیٹھ پر پنجابی زبان میں ‘آتنک وادی‘ لکھا ہوا دیکھا جاسکتا ہے۔ انہوں نے اس واقعہ کوانسانی حقوق کی صریح خلاف ورزی قرار دیا۔ جیل حکام کا کہنا ہے کہ کرم جیت سنگھ ایک عادی مجرم ہے اور من گھڑت کہانیاں بیان کرنا اس کی عادت ہے۔ دوسری جانب بھارتی پولیس نے تری پورہ میں تحقیقات کے لیے قائم فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کے 2ارکان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے