ایم کیو ایم پاکستان کے ڈپٹی کنوینر عامر خان نے کہا ہے کہ وفاق کی پالیسیوں کی وجہ سے ہم بھی دباؤ میں ہیں۔ حکومت سے
علیحدگی کا آپشن موجود ہے مگر فیصلہ پارٹی کرے گی۔ حکومت کے فیصلوں میں ایم کیو ایم کو شامل نہیں کیا جاتا.
حیدرآباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عامر خان نے کہا کہ ہم وفاق کو تجاویز بھی دیتے ہیں اور عوامی مفاد میں اختلاف
بھی کرتے ہیں۔ ہمارا ایک وزیر حکومت میں ہے ہماری کچھ مجبوریاں اور مشکلات ہیں جس کی وجہ سے ہم ساتھ چل رہے
ہیں۔ اس میں کوئی رائے نہیں۔ کہ عوام کا جینا مشکل ہوگیا ہے۔
پیٹرول اور ڈیزل پر جس قدر قیمتیں بڑھ رہی۔ ہیں ڈالر اونچی اڑان اٹھ رہا ہے۔ آ نے والے مہینوں میں گیس کا شدید بحران
آ نے والا ہے۔ بجلی پر مستقل پیسے بڑھ رہے ہیں۔ یہ عمل پورے ملک کے لئے نقصان دہ ہے۔
عوام پس رہے ہیں دو وقت نہی ایک وقت کا کھانا بھی مشکل ہو گیا ہے اس پر وفاق کو نظر ثانی کرنی چائے۔ حکومت جب
فیصلے کررہی ہوتی ہے تو اس میں ایم کیو ایم کو شامل نہیں کرتی ۔ یہ جو قیمتیں بڑھائی جارہی ہے کہ یہ ہمیں منظور نہیں
ساتھ میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اس وقت بھی پاکستان میں پیٹرول سستا ہے۔ آ پ جن ممالک سے پاکستان کا موازنہ کرتے ہیں ان کی سالانہ انکم بھی دیکھیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں کوئی ایسی پالیسی نہیں بن رہی جس سے عوام کو فائدہ ہو۔انہوں نے کہا کہ 2018ءکے نتائج میں ردوبدل کی گئی ۔ سابقہ گورنر عشرت العباد کی بات سے متفق ہیں کہ ہمیں ایک قوت بنا چاہئے۔ ایم کیو ایم کی صورت میں ایک پلیٹ فارم موجود ہے۔ ہمارے پاس عوامی مینڈیٹ اور عوامی نمائندے بھی موجود ہیں جس کو بھی کراچی کا درد ہے اپنی آنا بھلا کر ساتھ بیٹھے۔
