بدلتے ہوئے عالمی نظام کے دوران پاکستان داخلی امور میں بہتری، عالمی طاقتوں پر انحصار میں کمی اور زیرک سفارت کاری
کے ذریعے قومی مفادات کا بہتر انداز میں دفاع کر سکتا ہے۔ ان خیالات کااظہار سینئر سفارتکاروں، سابق اعلیٰ فوجی افسران
اور دانشوروں نے ” پاک امریکہ تعلقات کا مستقبل: چیلنجز اور مواقع” کے موضوع پر اسلام آباد میں سینڑ فار ائرو سپیس اینڈ
سیکورٹی سٹڈیز (کیس) کے قومی سیمینار کے دوران کیا۔
سیمینار کے مقررین میں سابق وزیر خارجہ ایمبسڈر انعام الحق ، سابق سیکر یٹر ی خارجہ اور ڈائر یکٹر کیس جلیل عباس جیلانی ، سابق وزیر اطلاعات و نشریات اور سابق سینیٹر ر جاوید جبار ، ڈائر یکٹر کیس برائے معاشی امور و قومی ترقی ڈاکٹر عثمان چوہان اور سلامتی کے معروف ماہر ائر وائس مارشل شہزاد اسلم چودھری(ر) شامل تھے۔ سیمینار کی صدارت صدر کیس اور سابق وائس چیف آف ائر سٹاف ائر مارشل فرحت حسین خان (ر) نے کی
اس موقع پر تعارفی خطاب اور میزبانی کے فرائض ڈائر یکٹر کیس برائے نیوکلئیر اور اسٹریٹجک امور سید محمد علی نے انجام دیئے۔
سابق وزیر خارجہ ایمبسڈر انعام الحق نے عالمی سیاست کے ابھرتے ہوئے محرکات اور پاکستان کے لئے آپشنز کے موضوع
پر کلیدی خطاب کرتے ہوئے کہا چین اور امریکہ کی تیزی سے بڑھتی ہوئی تز ویراتی رقابت کے منفی اثرات سے بچنے
کے لئے پاکستان کو اپنے داخلی امور ، معاشی استحقام اور انداز حکمرانی میں بہتری لانا ہو گی ۔ بصورت دیگر پاکستان
کو دونوں جانب سے دباؤ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کو اپنی سفارتکاری میں اس بات کا خاص خیال رکھنا چاہیئے کہ کہیں ایسا محسوس
نہ ہو کہ وہ افغان طالبان کی عالمی برادری کے سامنے وکالت کر رہا ہے۔ ان کے مطابق ماضی میں افغان طالبان نے امریکہ
سے دوحہ میں کامیاب مذاکرات کیے ہیں اور وہ اب بھی اس کی اہلیت رکھتے ہیں۔ انھوں نے تاکید کی کہ پاکستان کو اپنے ریاستی
امور میں زیادہ توجہ آبادی کی منصوبہ بندی ، تعلیم اور صحت پر دینے کی ضرورت ہے۔
سابق وفاقی وزیر جاوید جبار نے پاک امریکہ تعلقات کے معاشرتی اور ثقافتی پہلو کے تجزیےکے دوران دونوں ممالک کے
معاشرتی رویوں اور تمدن کا موازنہ پیش کیا۔ انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کو اپنے حوالے سے موجود عالمی تاثر
کو بہتر بنانے کے لئے ثقافتی سفارتکاری اور روابط میں بڑے پیمانے پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
ڈاکڑ عثمان چوہان نے پاک-امریکہ معاشی تعلقات کے مستقبل پر جامع تجزیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ دو طرفہ سیاسی اور دفاعی روابط میں اتار چڑھاؤ کے باوجود امریکہ پاکستان کی سب سے بڑی برآمدی منڈی ہے ۔ انھوں نے تجویز پیش کی کہ کاروباری ماحول اور قومی اداروں میں بہتری کے ذریعے پائدار ترقی کو ممکن بنایا جا سکتا ہےجس کے نتیجے میں برآمدات میں اضافہ اور مہنگے اور جبری شرائط کے تحت لئے گئے بیرونی قرضوں پر انحصار کم کیا جاسکتا ہے ۔
ائر وائس مارشل ریٹائرڈ شہزاد اسلم چودھری نے پاک امریکہ سلامتی کے تعلقات کا تفصیلی تجزیہ پیش کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی افواج کےجدید اور درمیانے درجے کی ٹیکنالوجی کے ہتھیاروں پر انحصار کی بڑی وجہ عالمی طاقتوں پر دارومدار رہا ہے جس وجہ سے پاکستان کو مستقبل میں اپنے بیرونی تعلقات میں کسی کے لئے بھی دروازے بند کرنا ، علاقائی اور عالمی ڈھڑوں میں شامل ہونا اور سیاسی جانبداری مزید مشکلات کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔
سابق سیکر یٹر ی خارجہ اور ڈائر یکٹر کیس ایمبیسیڈر جلیل عباس جیلانی نے پاک امریکہ تعلقات کے حوالے سے مستقبل کالائحہ عمل تجویز کرتے ہوئے اس تشویش کا اظہار کیا کہ پاکستان پر امریکہ اور چین کی بڑھتی ہوئی باہمی رقابت کے گہرے اثرات مرتب ہو سکتےہیں جس کی بنا پر شائد مستقبل میں پاکستان کے لئے سفارتی غیر جانبداری برقرار رکھنا مزید دشوار ہو جائے گا۔ انھوں نے خطے کی بدلتی ہوئی تزویراتی صورت حال، بڑھتے ہوئے امریکہ -بھارت دفاعی تعاون ، امریکہ میں بھارتی لابنگ اور پاکستان کے چین کے ساتھ قریبی تعلقات کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ یہ وہ عوامل ہیں جو کہ امریکہ کی پاکستان کی جانب پالیسیوں پر اثرانداز ہو رہے ہیں۔ انھوں نے امریکہ میں مقیم پاکستانی برادری کی خدمات اور اہمیت کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ میں مقیم بھارتی درحقیقت امریکی سیاسی نظام کا حصہ بن چکے ہیں جس کی بنا پر امریکی پالیسیوں پر بھارتی اثر ورسوخ بےپناہ بڑھ چکا ہے۔
صدر کیس اور سابق وائس چیف آف ائر سٹاف ائر مارشل فرحت حسین خان (ر) نے اپنے اختتامی خطاب کے دوران کہا کہ پاکستان نے امریکہ کے ساتھ علاقائی سیاست اور تزویراتی امور میں طویل عرصے تک بہت گہرا تعاون کیا ہے۔ اس تعاون کے نتیجے میں پاکستان کو اپنے بنیادی ڈھانچے کی ترقی ، دفاعی افواج کے لئے جدید ہتھیاروں کے حصول اور معاشی تعاون حاصل ہوا ہے۔ البتہ اس کے نتیجے میں پاکستان کی داخلی سلامتی اورسماج کے خدوخال پر گہرے اثرات مرتب ہوئے ہیں جس کے نتیجے میں بیرونی سرمایہ کاری اور معاشی اہداف کے حصول پر منفی اثر پڑا ہے۔ اس موقع پر انھوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ مستقبل میں پاک-امریکہ تعلقات ، ایک دوسرے کی اقدار ، قومی مفادات ، عوامی خواہشات ، قریبی معاشی تعاون اور سلامتی کےاحترام پر مبنی ہونگے۔ اس موقع پر ان کا کہنا تھا کہ عالمی طاقتوں سے مذاکرات کے حوالے سے ان کے سیاسی نظام اور سیاسی عمل کے بہتر ادراک ، مذاکراتی عمل میں جامع ادارتی عمل دخل اور قومی مفادات کو اولین ترجیح دینے کے نتیجے میں پاکستان کو مستقبل میں بہتر نتائج حاصل ہوسکتے ہیں۔
اس قومی سیمنار میں سفارتکاروں ، اعلیٰ فوجی افسران ، متعد د تھنک ٹینک کے سربراہوں ، محققین ، صحافی اور طلباء کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی اور سوال و جواب کے دور میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔
No related posts.
