ملک کے معروف نوحہ خواں سید ناصر حسین زیدی طویل علالت کے باعث کراچی میں انتقال کر گئے. سید ناصر زیدی
کراچی کی قدیمی انجمنوں میں سے ایک انجمن تنظیم الحسینی کے صاحب بیاض تھے.

کم از تین دہائیوں تک اپنی پرسوز آواز میں محمد آل محمد صلی اللہ علیہ والیہ وسلم کا ذکر کرتے ہوئے. کراچی کی مجالس
ہوں یا شب بیداری ان میں سید ناصر حسین زیدی کی شرکت لازمی ہوتی تھی.
ناصر زیدی کا کراچی کے علاقہ لالو کھیت سے تعلق تھا لیکن 80 کی دہائی میں جب لاکو کھیت میں
شیعوں کے گھروں پر حملے اور جلاؤ گھیراؤ کیا گیا تو پھر ناصر زیدی سمیت بڑی تعداد میں لوگ انچولی
منتقل ہو گئے تھے. ناصر زیدی مرحوم علامہ عرفان حیدر عابدی کے داماد تھے.
اللہ تعالی نے انہیں اتنی پرسوز آواز دی تھی کہ جو وہ ان سے کربلا والوں کا ذکر سنتا اس کی آنکھوں سے آشکوں کی
لڑی لگ جایا کرتی تھی اسی لیے چاہنے والوں نے ناصر زیدی کو شہنشاہ نوا کا لقب بھی دے رکھا تھا.
2021 میں کئی علمائے کرام اس دنیا سے رخصت ہوئے ہیں اور اب ناصر زیدی کے چلے جانے سے بناؤٹ سے پاک سچے اور
مخلص نوحہ خوان و منقبت خواں سے لوگ محروم ہو گئے ہیں.
ناصر زیدی کے نوحہ کے بول تاقیامت لوگوں کو کربلا والوں کے ذکر پر رلاتے رہیں گے
کیونکہ مجلس جہاں ہوگی وہاں آتی ہیں سکینہ ہائے پیاسی ہے سکینہ
No related posts.
