تحریر ندیم رضا
بنگلہ دیش سارک یعنی ساوتھ ایشئن ایسوسی ایشن فار ریجنل کوآپریشن تنظم کا اہم ترین ممبر ہے۔ سارک تنظیم ہندوستان،
پاکستان، بنگلہ دیش، سری لنکا، نیپال، بھوٹان، مالدیپ اور افغانستان پر مشتمل ہے۔
ان آٹھ ایشیائی ملکوں کی آبادی دنیا کی 23فیصد کے برابر ہے۔ جنوب ایشائی ممالک میں دنیا کی چوالیس فیصد غربت بھی ہے۔
اس تنظیم کا مقصد رکن ممالک میں فری ٹریڈ زون کا قیام، یورپی ممالک کی طرح اقتصادی اتحاد، جنوب ایشیائی ممالک
کے لوگوں کو غربت سے نکالنا اور ایک دوسرے کے مفاد کے لیے کام کرنا شامل ہے
افغانستان کو 13 نومبر 2005ء کی بھارت کی تجویز پر 3 اپریل 2007ء کو مکمل رکن کی حیثیت سے تنظیم میں شامل
کیا گیا۔ افغانستان کی شمولیت سے تنظیم کے رکن ممالک کی تعداد بڑھ کر 8 ہوگئی ہے۔ اپریل 2006ء میں ریاستہائے
متحدہ امریکا اور جنوبی کوریا نے مبصر کی حیثیت سے تنظیم میں شمولیت کی باقاعدہ درخواست دی۔ یورپی یونین
نے بھی مبصر کی حیثیت سے شمولیت میں دلچسپی ظاہر کی ہے اور جولائی 2006ء میں سارک وزراء کونسل میں
اس حیثیت کے لیے باقاعدہ درخواست دی۔ 2 اگست 2006ء کو سارک وزرائے خارجہ کے اجلاس میں امریکا،
جنوبی کوریا اور یورپی یونین کو مبصر کی حیثیت دے دی گئی۔
جبوبی ایشیا اپنے محل وقوع اور آب و ہوا کی وجہ سے دنیا کا بہترین خطہ ہے۔
مغل بادشاہ اکبر کے دور میں دنیا کی کل جی ڈی پی کا 23 فیصد حصہ بھارت یعنی پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش
سے تعلق رکھتا تھا۔ اس دور میں جنوبی ایشیا کو دنیا سونے کی چڑیا سمجھتی تھی۔
پاکستان بنگلہ دیش کو روشن مستقبل کی طرف بڑھنا ہوگا
جنوبی ایشیا میں دنیا کی 23 فیصد جی ڈی پی ہونے کی وجہ اس کی ذرخیز زمین، میدان، دریا، صنعتیں،
تعلیم کی طرف رجحان اور بڑی آبادی شامل تھی۔
مغل دور حکومت کے بعد جنوب ایشیائی ممالک دوبارہ وہ معاشی عروج نہ دیکھ سکے حلانکہ دریا بھی وہی ہیں، زمین بھی ذرخیز ہے اور آبادی بھی پہلے سے کہیں زیادہ ہے۔
جنوبی ایشیا کی ترقی نہ کرنے کی وجہ تمام ممالک کی آپس میں تقسیم اور بھارت کا ہندتوا نظریہ ہے۔
بھارت نے ہمیشہ دیگرسارک رکن ممالک کو اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کی۔
بدقسمتی سے ماضی قریب میں بنگلہ دیش پر بھی بھارت کا اثر و رسوخ رہا جس کی وجہ سے بھارت بنگلہ دیش، بھوٹان اور نیپال کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرتا رہا۔
یہ بھارت کے منفی عزائم تھے کہ سارک تنظیم آج تک اپنا کردار ادا نہ کرسکی۔
اورتو اور بھارت کی ریاست آسام میں بنگالیوں اور دیگر مسلمانوں پر زمین تنگ کردی گئی ہے۔ مسلمانوں کے دو بچے پیدا کرنے پر پابندی کے قوانین سامنے آچکے ہیں۔
عالمی ادارے چیخ چیخ کر بول رہے ہیں کہ بھارت میں بنگالیوں پرزمین تنگ کر دی گئی۔ بنگالی شہریوں کے حقوق سلب کر لیے گئے ہیں
بھارت میں بنگالیوں کے ساتھ بدترین سلوک کیا جارہا ہے۔ یہ وہی خاندان ہیں جو70 کی دہائی میں بھارت منتقل ہوئے تھے۔
تاہم بھارت کا منفی رویہ دیکھ کر اب بنگالی دوبارہ سے اپنے بڑے بھائی پاکستان کی طرف دیکھ رہے ہیں۔
پاکستان کی طرف سے بھی کھلے دل سے بنگلہ دیش کا استقبال کیا جارہا ہے۔
خطے کے دو بڑے ممالک پاکستان اور بنگلہ دیش کے لیے یہ اہم ترین وقت ہے کہ دونوں ماضی کی تلخیوں کو بھلا کر ایک ہو جائیں اور دونوں ممالک مل کر سارک کے بنیادی کردار کو دوبارہ فعال کرکے جنوبی ایشیا کو ایک بار سونے کی چڑیا بنادیں.
