اسلام آباد: پارلیمانی کمیٹی برائے قومی سلامتی اجلاس کی اندرونی کہانی سامنے آگئی جس میں وزیراعظم عمران خان کی اجلاس سے غیر حاضری پر اپوزیشن نے شدید تنقید کی ہے۔
اپوزیشن نے وزیراعظم عمران خان کی عدم موجودگی پر سوالات کھڑے کردیے اور کہا کہ ہمیں چور ڈاکو کہنے والے خود سکیورٹی صورتحال سے متعلق اتنے اہم اجلاس میں غیر حاضر کیوں ہیں؟
اجلاس میں تحریک طالبان پاکستان سے مذاکرات پر عسکری قیادت کی جانب سے بریفنگ دی گئی۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے سوالوں کے زیادہ تر جواب خود دیے۔
اجلاس میں شرکا نے گفتگو کی کہ پڑوسی ملک افغانستان میں کسی ایک جماعت یا چند لوگوں کی سپورٹ کے بجائے پورے افغانستان کے بارے میں پالیسی بنائی جائے، افغانستان اور امریکا سے متعلق ایسی پالیسی تشکیل دی جائے کہ ہم کسی جنگ کا حصہ نہ بن جائیں۔
یہ پڑھیں : پارلیمانی قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس، کالعدم ٹی ٹی پی سے مذاکرات پر بریفنگ
شرکاء نے تحریک طالبان پاکستان سے معاہدے سے متعلق پارلیمان کو اعتماد میں لینے کا مطالبہ کیا جس پر آرمی چیف نے ٹی ٹی پی کے معاملے پر پارلیمان کو اعتماد میں لینے کی یقین دہانی کرائی۔
ٹی ٹی پی بریفنگ کے دوران سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو کی شہادت کا بھی ذکر ہوا۔ شرکا نے کہا کہ بلاول بھٹو کی والدہ بھی ٹی ٹی پی کی دہشت گردی کا نشانہ بنیں اس لیے ٹی ٹی پی کی دہشت گردی کے سبب شہید ہونے والوں کے لواحقین کے جذبات کو مدنظر رکھ کر معاہدہ تشکیل دیا جائے۔
اجلاس میں ٹی ایل پی کے معاہدے کے حوالے سے سوالات ہوئے۔ جواب میں حکومتی اور عسکری قیادت نے یقین دہانی کرائی کہ ٹی ایل پی سے کیا گیا معاہدہ قانون اور آئین کے دائرے میں ہے، ٹی ایل پی معاہدہ جب بھی سامنے آئے گا آپ اسے آئین اور قانون کے دائرے میں پائیں گے۔
