English Al Qamar Urdu جون 27, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

وزیراعظم باتیں زیادہ کام کم کرتے ہیں، لوگوں کا انصاف فراہم کیا جائے، سپریم کورٹ

القمر

سانحہ آرمی پبلک اسکول کے متعلق کیس میں عدالت کے طلب کرنے پر وزیراعظم عمران خان سپریم کورٹ میں پیش ہوئے۔تین رکنی بینچ نے اس کیس کی سماعت کی۔ بینچ میں چیف جسٹس گلزار احمد، جسٹس اعجازالاحسن اور جسٹس قاضی امین شامل ہیں۔
سپریم کورٹ نے حکمنامے میں لکھوایا کہ چارہفتوں میں رپورٹ پیش کی جائے۔ عدالت نے حکومت کو معاملے پر مثبت اقدامات اٹھانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ اس سارے عمل میں شہید ہونے والے بچوں کے والدین کو بھی ساتھ ملایا جائے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ آج کے حکم نامے میں گزشتہ سماعت کا حکم نامہ دوبارہ شامل کیاجائے۔ حکومت انصاف کےلیے تمام اقدامات بروئے کار لائے گی۔ عدالت نے وفاقی حکومت کو متاثرین کی شکایات پر اقدامات کرنے کا حکم بھی دیا۔
سپریم کورٹ نے حکم دیا کہ حکومت سانحہ آرمی پبلک سکول میں ملوث افراد کیخلاف مثبت اقدام اٹھائے۔ وزیراعظم نےکہاکہ حکومت انصاف کےلیے تمام اقدامات بروئے کار لا ئے گی۔ عدالت کمیشن بنانے کا حکم دے، جو ذمہ دار ہوگا سامنے لائیں گے۔بینچ کے سربراہ نے وزیراعطم سے استفسار کیا کہ آپ سانحہ اے پی ایس کے حوالے سے کیا کر رہے ہیں۔ وزیراعظم نے جواب دیا کہ ہماری اس وقت صوبے میں حکومت تھی۔ وفاق میں تحریک انصاف کی حکومت نہیں تھی۔ جو ممکنہ اقدامات ہوسکتے تھے ہم نے کیے۔
وزیراعظم نے اس وقت کے اٹھائے گئے اقدامات سے بھی سپریم کورٹ کو آگاہ کیا۔ ہماری جماعت نے اس وقت لواحقین سے ملاقات کی تھی۔انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلا ف جنگ میں ہم نے 80ہزار سے زائد جانوں کی قربانیاں دیں۔ ہمیں پتہ نہیں تھا ہمارے دوست کون اور دشمن کون ہیں۔
ملک میں کوئی مقدس گائے نہیں ،قانون کی حکمرانی پر یقین رکھتا ہوں۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ اس لیے جیتے کیونکہ ہمارے پیچھے قوم تھی۔آج جب سماعت شروع ہوئی تو چیف جسٹس پاکستان نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ بتائیں کیا وزیراعظم نے گزشتہ سماعت کا عدالتی حکم پڑھا ہے یا نہیں؟
گزشتہ سماعت میں عدالت نے وزیراعظم کو حکم دیا تھا کہ بتائیں سینئرز اور اعلیٰ عہدیداروں کیخلاف کیا کارروائی کی گئی؟
اٹارنی جنرل نے بتایا کہ وزیراعظم کو عدالتی حکم نہیں بھیجا تھا۔ وزیراعظم کو عدالتی حکم سے آگاہ کروں گا۔
چیف جسٹس نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اٹارنی جنرل صاحب یہ سنجیدگی کا عالم ہے؟ وزیراعظم کو بلائیں ان سے خود بات کریں گے۔ایسے نہیں چلے گا۔
اٹارنی جنرل نے کہا کہ ہم اپنی تمام غلطیاں قبول کرتے ہیں۔ اعلیٰ حکام کے خلاف کوئی ایف آئی آر درج نہیں ہو سکتی۔ میں دفتر چھوڑ دونگا کسی کا دفاع نہیں کروں گا۔
چیف جسٹس نے سوالیہ انداز میں پوچھا کہ اپنے لوگوں کے تحفظ کی بات آئے تو انٹیلی جنس کہاں چلی جاتی ہے؟
جسٹس اعجازالاحسن نے کہا اداروں کو معلوم ہونا چاہیے تھا قبائلی علاقوں میں آپریشن کا رد عمل آئے گا۔ سب سے نازک اور آسان ہدف اسکول کے بچے تھے۔ان کا کہنا تھا کہ کہا کہ اے پی ایس واقعہ سیکیورٹی کی ناکامی تھی۔ یہ ممکن نہیں کہ دہشتگردوں کو اندر سے سپورٹ نہ ملی ہو۔
جسٹس قاضی امین نے کہا کہ اطلاعات ہیں کہ ریاست کسی گروہ سے مذاکرات کررہی ہے، کیا اصل ملزمان تک پہنچنا اور پکڑنا ریاست کا کام نہیں؟
چیف جسٹس نے کہا کہ بچوں کو سکولوں میں مرنے کیلئے نہیں چھوڑ سکتے، چوکیدار اور سپاہیوں کیخلاف کارروائی کر دی گئی۔ اصل میں تو کارروائی اوپر سے شروع ہونی چاہیے تھی۔ اوپر والے تنخواہیں اور مراعات لے کرچلتے بنے۔ کیس میں رہ جانے والے معاملات پر آپ نے آگاہ کرنا تھا۔
وکیل والدین امان اللہ کنرانی نے کہا کہ حکومت ٹی ایل پی کے ساتھ مزاکرات کر رہی ہے۔ قصاص کا حق والدین کا ہے ریاست کا نہیں۔ ریاست سمجھوتہ نہیں کرسکتی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ یہ عدالت ہے یہاں سیاسی باتیں نہ کریں۔
چیف جسٹس نےکہا ملک میں اتنا بڑا انٹیلی جنس سسٹم ہے، اربوں روپے انٹیلی جنس پر خرچ ہوتے۔ دعوی بھی ہے کہ ہم دنیا کی بہترین انٹیلی جنس ایجنسی ہیں۔ انٹیلیجنس پر اتنا خرچ ہورہا ہے لیکن نتائج صفر ہیں۔انہوں نے استفسار کیا کہ کیا سابق آرمی چیف اور دیگر ذمہ داران کیخلاف مقدمہ درج ہوا؟
اٹارنی جنرل نے بتایا سابق آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی کیخلاف انکوائری رپورٹ میں کوئی فائنڈنگ نہیں ہے۔ عدالت نے کیس کی سماعت چار ہفتوں کیلئے ملتوی شروع کر دی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے