
گلاسگو (انٹرنیشنل ڈیسک) عالمی ماحولیاتی کانفرنس کوپ 26 کے ناکام ہونے کے خدشات پیدا ہوگئے۔ خبررساں اداروں کے مطابق 15روز سے اسکاٹ لینڈ کے شہر گلاسگو میں جاری اہم کانفرنس کے آخری روز بھی شرکا عالمی درجہ حرارت کو 1.5 ڈگری تک محدود کرنے پر متفق نہ ہوسکے۔ دوسری جانب ایران کے ایک سینئر رہنما نے کہا ہے کہ ایران ماحولیاتی تبدیلی سے متعلق پیرس معاہدے کی توثیق صرف اسی صورت میں کرے گا، جب اس پر عائد امریکی پابندیاں ہٹا دی جائیں گی۔ محکمہ ماحولیات کے سربراہ علی سلاجیگہ نے کہا کہ امریکی پابندیاں ایران کے قابل تجدید توانائی جیسے شعبوں میں رکاوٹ کا باعث بن رہی ہیں۔ واضح رہے کہ ایران کاربن خارج کرنے والا دنیا کا آٹھواں بڑا ملک ہونے کے باوجود ان چند ممالک میں شامل ہے، جنہوں نے پیرس معاہدے کی توثیق نہیں کی۔ حالیہ برسوں کے دوران ایران میں کاربن کے اخراج میں اضافہ ہوا ہے، کیوں کہ بیرون ملک سے قابل تجدید توانائی میں سرمایہ کاری بہت کم ہوئی ہے۔ ایران کے صدر ابراہیم رئیسی گلاسکو میں جاری اقوام متحدہ کے موسمیاتی تبدیلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے نہیں آئے، تاہم اقتصادی پابندیوں کے خلاف آواز اٹھانے کے لیے ایرانی ٹیم اس اجلاس میں موجود ہے۔
