گلگت بلتستان کے سابق چیف جج رانا محمد شمیم کے بیٹے احمد حسن رانا نے انکشاف کیا ہے کہ ان کے والد کے ایک عہدیدار اور وکیل کی حیثیت سے مسلم لیگ (ن) کے قائد اور ان کی جماعت کے ساتھ دیرینہ تعلقات ہیں۔
رانا محمد شمیم نے سابق چیف جسٹس آف پاکستان ثاقب نثار پر نواز شریف اور مریم نواز کے خلاف کرپشن ریفرنسز میں مداخلت کا الزام عائد کیا تھا۔
احمد حسن رانا، جو سپریم کورٹ کے ایڈووکیٹ بھی ہیں، کا کہنا تھا کہ ان کے والد نواز شریف کے ساتھ ’براہِ راست رابطے‘ میں ہیں بلکہ انہوں نے کورونا وبا کے پھیلاؤ سے قبل مسلم لیگ (ن) کے قائد سے ملاقات بھی کی تھی۔
نجی چینل ’جیو نیوز‘ کے پروگرام ’آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ‘ میں گفتگو کرتے ہوئے احمد حسن رانا نے تسلیم کیا کہ ان کے والد جسٹس شمیم ماضی میں مسلم لیگ (ن) سندھ کے نائب صدر اور میموگیٹ اسکینڈل میں نواز شریف کے وکیل بھی رہے ہیں۔
کوروناسے پہلے میرے والدکی نواز شریف سے لندن میں ملاقات ہوئی۔ ان کا نواز شریف سے براہ راست رابطہ اور تعلق ہے۔ وہ ان کے وکیل بھی رہےاور ن لیگ کے سندھ لائرزونگ کے نائب صدر بھی رہے۔ میں بھی نواز شریف سے جیل میں ملا۔جسٹس رانا شمیم کے فرزند اور وکیل کاانٹرویو
— Shahzeb Khanzada (@shazbkhanzdaGEO) November 16, 2021
شو کے دوران احمد حسن رانا نے اپنے والد کی جانب سے کسی سوال کا جواب دینے سے انکار کیا اور کہا کہ وہ 2018 میں نواز شریف کی حراست کے وقت خود اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب رہے ہیں اور جیل میں ان سے ملاقات بھی کی تھی۔
انہوں نے بتایا کہ ان کے والد کی نواز شریف سے آخری مرتبہ ملاقات کورونا وائرس سے قبل برطانیہ کے دورے کے دوران ہوئی تھی۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ (رانا شمیم) نواز شریف کے وکیل رہے ہیں اس لیے ان کے تعلقات ہیں، ان کے براہِ راست رابطے ہیں‘۔
براہ راست پروگرام کے دوران احمد حسن رانا، جسٹس شمیم کو ایک کال پر لائیو لیتے ہوئے نظر آئے تاکہ ان سے نواز شریف سے ملاقات کے بارے میں پوچھا جا سکے لیکن پھر شاہزیب خانزادہ کو بتایا کہ ان کے والد نے جواب میں ’نو کمنٹس‘ کہا ہے۔
اگر نواز شریف سے رابطے میں بھی تھے اور تعلقات بھی اچھے ہیں تو بھی چار سال تک جسٹس (ر) رانا شمیم خاموش کیوں رہے؟ 2/2
— Shahzeb Khanzada (@shazbkhanzdaGEO) November 16, 2021
