ترکی کی قومی اسمبلی کے اسپیکر مصطفیٰ شَن توپ نے کہا کہ وہازبکستان میں ہونے والی اصلاحات اور تبدیلی کے عمل کا قریب سے جائزہ لے رہے ہیں۔
اسپیکر مصطفیٰ نے ان خیالات کا اظہار گزشتہ روز قومی اسمبلی کے دیوان ہال میں ازبکستان مجلسِ اعلیٰ کے قانون ساز چیمبر کے پہلے نائب صدر اور ازبکستان-ترکی بین الپارلیمانی دوستی گروپ کے چیئرمین اکمل سیدوف اور ان کے ہمراہ آنے والے وفد سے ملاقات کے دوران کیا۔
شَن توپ نے کہا کہ باہمی دورے دوطرفہ تعلقات کی ترقی کے لیے اہم ہیں۔
انہوں نے کہا کہ میرا ماننا ہے کہ برادرانہ قانون پر مبنی ہماری اسٹریٹجک شراکت داری کو بین الپارلیمانی تعلقات کو فروغ دینے میں مدد ملے گی۔
انہوں نے کہا کہ "ازبکستان اور ہمارے ازبک بھائیوں کا ہماری قوم کے دلوں میں ایک خاص مقام ہے۔انہوں نے کہا کہ اراکین پارلیمنٹ کو ایک دوسرے سے ملنے اور ایک دوسرے کا ملک کا دورہ کرنے کے لیے حالات کا سازگار کرنے کی ضرورت ہے۔
مصطفیٰ شَن توپ نے کہا کہ ازبکستان، ترکستان کے جغرافیہ میں ایک ایسا ملک ہے جو ترکی اور اسلامی تہذیب کے خوبصورت ترین کاموں سے ہٹ کر سیاست، معیشت اور معاشرت کے حوالے سے روز بروز ترقی کر رہا ہے ۔
شَن توپ نے کہا کہ انہوں نے اصلاح اور تبدیلی کے اس عمل کو بھی قریب سے دیکھا جس سے ازبکستان گزر رہا ہے۔
شَن توپ نے کہا کہ ہمیں بہت خوشی ہے کہ ازبکستان ترک ریاستوں کی تنظیم کی رکنیت حاصل کرچکا ہے۔
ازبکستان کی مجلسِ اعلیٰ کے قانون ساز چیمبر کے پہلے نائب چیئرمین اور ازبکستان-ترکی بین الپارلیمانی دوستی گروپ کے چیئرمین سیدوف نے کہا کہ وہ بین الاقوامی تنظیم برائے ترک ثقافت (TÜRKSOY) کے ساتھ مل کر کام کریں گے۔
