کراچی (رپورٹ: منیر عقیل انصاری) مسلم دنیا کے حکمرانوں کی اکثریت مغرب کی سیاسی و معاشی قوت اور سائنس و ٹیکنالوجی میں پیش رفت کے باعث ان سے مرعوب ہے‘ مسلم دنیا کے حکمران اپنے ملک کے عوام کی حقیقی نمائندگی نہیں کرتے ‘ انہیں ڈر ہے کہ عوام کھڑے ہوگئے تو ان کا اقتدار میں رہنا مشکل ہوجائے گا‘ ایسے میں وہ مغرب سے امیدیں باندھتے ہیں کہ وہ انہیں بچائے گا اور اس بچائوکی نہایت بھاری قیمت انہیں چکانی پڑتی ہے‘ جس دن مسلم حکمران علم کے ذریعے اپنی دسترس دنیا پر ثابت کر دیںگے‘ اُس دن ہم مغرب کی غلامی سے آزاد ہوجائیں گے۔ ان خیالات کا اظہار معروف مذہبی اسکالر مولانا مفتی محمد زبیر، وفاقی اردو یونیورسٹی شعبہ ابلاغ عامہ کے سابق سربراہ، ہمدرد فائونڈیشن کے پروگرامز اینڈ پبلیکیشنز کے ڈائریکٹر اور ہمددر نونہال کے سابق ایڈیٹر و معروف کالم نگار پروفیسر سلیم مغل اور جامعہ کراچی شعبہ اسلامی تاریخ کے صدر نشین پروفیسر ڈاکٹر حافظ محمد سہیل شفیق نے جسارت کی جانب سے پو چھے گئے اس سوال کے جواب میں کیا کہ ’’مسلم دنیا کے حکمرانوں کی اکثریت مغرب کی غلام کیوں ہے؟ ‘‘ مفتی محمد زبیر نے کہا کہ مسلم ممالک کے اکثر حکمران اپنے ملک کے عوام کی حقیقی نمائندگی نہیں کرتے‘ انہیں ڈر ہے کہ عوام کھڑے ہوگئے تو ان کا اقتدار میںرہنا مشکل ہو جائے گا‘ ایسے میں وہ مغرب سے امیدیں باندھتے ہیں کہ وہ انہیں بچائے گا اور اس بچائوکی نہایت بھاری قیمت انہیں چکانی پڑتی ہے اور وہ ان کے سامنے ہر لمحے سرتسلیم خم کرتے ہیں‘ دین سے دوری اور دنیا کی محبت اور آخرت سے غفلت کی وجہ سے وہ مغربی ٹیکنالوجی کی چکا چوند سے غیر معمولی متاثر رہتے ہیں‘ اپنے وقتی اقتدار کو دوام دینے کے لییبھی وہ مغربی سہارا تلاش کرتے ہیں‘ اللہ تعالیٰ پر توکل کی کمی، اپنے ملک کو مغربی طرز کی ترقی دلانے کی خواہش، مغرب کے دبائو کے سامنے ڈھیر ہوجانے کی رِیت اور معاشی بندش کے باعث مسلم حکمران مغربی غلامی اختیار کرتے ہیں۔پروفیسر سلیم مغل نے کہا کہ دنیا میں ایک نادیدہ قوت حکومت کرتی ہے بظاہر اس کا کوئی نام نہیں ہے لیکن لوگ ان کے لیے مختلف نام استعمال کرتے ہیں‘ کوئی جیوز کہتا ہے‘ کوئی المنلائی اور کوئی زائنس کہہ دیتا ہے لیکن اصل میں یہ ایک ہی گروہ ہے جو پوری دنیا کو مانیٹر کرتا ہے جس کے وسائل بہت زیادہ ہیں‘ اس کی طاقت اور ویژن بہت بڑا ہے‘ یہ لوگ پوری دنیا کو اپنے انداز سے چلا رہے ہیں‘ مسلم ممالک سمیت دنیا بھر کے زیادہ تر حکمران ان ہی کی مرضی سے آتے ہیں اور خاص طور پر اسلامی دنیا میں جو مومنٹس ہوتی ہیں‘ اس میں ان کا عمل دخل رہتا ہے تو ظاہر ہے کہ ہمارے حکمرانوں کو پتا ہے کہ ہمیں لانے والے کون ہیں اور کون ہمیں ہٹا سکتا ہے اور کون ہمارے لیے مشکلات پیدا کرسکتا ہے ‘ مسلم ملک میں صدام حسین، یاسر عرفات اور کرنل قذافی کے ساتھ کیا ہوا‘ سب آپ کو پتا ہے‘ جب یہ صورت ہوگی تو پھر سب ان کے غلام ہوں گے اور ان کی ہر بات مانیں گے اور جس طرح یہ کہیںگے اسی طرح وہ کریںگے‘ ایک تو بنیادی بات یہی ہے اور دوسری بات یہ ہے کہ ہم اگر مغرب کے سامنے کھڑے ہوسکتے تھے اور ان کی غلامی سے بچ سکتے تھے وہ راستہ علم کا راستہ تھا‘ تحقیق کا راستہ تھا‘ ایجادات کا راستہ تھا‘ سائنس کی تعلیم کے فروغ کا راستہ تھا‘ وہ راستہ ہم نے نہیں اپنایا ہے‘ کہنے کو تو ہمارے یہاں درس گاہیں اور ادارے بھی ہے اور لوگ پڑھ بھی رہے ہیں لیکن ہم معیاری محقق پیدا نہیں کر رہے ہیں‘ ہم میعاری سائنسدان اور فلاسفر پیدا نہیں کر رہے ہیں یا کچھ کر بھی رہے ہیں تو وہ بھی ایکا دکا کوئی بیچارے‘ جن کی آواز کہیں دب کر رہ جاتی ہے‘ ہم وہ ماحول بنانے میں ناکام رہے ہیں جس میں علم فروغ پائے اور جس میں ہر فرد پڑھ رہا ہو‘ علم حاصل کر رہا ہو‘ تحقیق کر رہا ہو‘ جستجو اور ایجادات کررہا ہو‘ ہمیں ماننا پڑے گا کہ ہم ابھی تک یہ نہیں کر سکے ہیں‘ جب ہم یہ سب نہیں کر سکے اور انہوں نے یہ سب کچھ کرلیا ہے ‘ دنیا میں آپ کسی بھی موضوع کو اٹھا لیں اس میں مغرب نے غیر معمولی کام کیا ہوا ہے تو یہ ان کا حق بنتا ہے کہ وہ ہم پر حکمرانی کریں اور ہم ان کے غلام بننے رہے‘ مسلم حکمرانوں نے جس دن علم کیذریعے اپنی دسترس دنیا پر ثابت کردی تو اسی دن سے ہم مغربی آقائوں کی غلامی آزاد ہوںگے۔ حافظ محمد سہیل شفیق نے کہا کہ دراصل مسلم دنیا کے حکمرانوں کی اکثریت مغرب کی سیاسی و معاشی قوت اور سائنس و ٹیکنالوجی میں پیش رفت کے باعث ان سے مرعوب ہے‘ مسلم دنیا کے حکمرانوں کی اکثریت اپنی تاریخ اور تہذیب سے آشنا نہیں ہے اور مغربی تعلیم و مغربی طرز حیات سے متاثر ہے۔ یہ حال صرف مسلم دنیا کے حکمرانوں ہی کا نہیں ہے خود مسلم دنیا بھی اس کا شکار ہے‘ مسلم دنیا کی قوتِ عمل ماند پڑچکی ہے‘ اسلام نے ایمان و صالح کے باہمی تلازم کا جو درس دیا تھا مسلم دنیا کے حکمران اس سے آگاہ ہی نہیں ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج مسلم دنیا کے حکمرانوں کی اکثریت مغرب کی غلام ہے۔

