کراچی (اسٹاف رپورٹر) وزیر اطلاعات و محنت سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ جوائنٹ سیشن کے دوران درجنوں بل غلط گنتی اور دھوکا دے کر منظور کرائے گئے‘ بل کی منظوری کے لیے درکار221 یا 222 ارکان کی آئینی منظوری بھی نہیں لی گئی‘ پی ٹی آئی، ایم کیوایم، جی ڈی اے اور اس کے اتحادیوں نے کلبھوشن کو این آر او دینے کے بل پر ووٹ دیے‘ پی ٹی آئی اور اس کی اتحادی جماعتوں نے سندھ کی مردم شماری کے مقدمے کو بھی بلڈوز کرکے سندھ کے عوام کے حق پر ڈاکا ڈالا اور جی ڈی اے اور ایم کیو ایم نے بھی سپورٹ کیا‘ فہمیدہ سیال اور ناظم جوکھیو کی ایف آئی آر دونوں کے لواحقین کی مرضی کے مطابق کٹوائی گئی ہے‘ سندھ حکومت نے پہلے دن سے ان کا ساتھ دیا ہے‘ ان کو سیکورٹی فراہم کی گئی‘ اگر پیپلز پارٹی میں کسی نے غلط کام کیا ہے تو ہم اس کے ساتھ کھڑے نہیں ہوں گے‘ملیر ایکسپریس وے پر مقامی لوگوں کے اعتراضات آئے ہیں ‘ ان کے خدشات کو دور کرکے پروجیکٹ مکمل کرنا چاہتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعے کو سندھ اسمبلی کے باہر میڈیا ٹاک کرتے ہوئے کیا۔ سعید غنی نے کہا کہ ڈی آئی جی پولیس امن و امان کی بحالی کا ذمے دار ہوتا ہے‘ اگر صوبے کو درکار 22 میں سے 12 ایسے افسران کا بغیر کسی مشاورت کے تبادلہ وفاق کرتا ہے تو اس کا واضح مقصد ہے کہ وفاق صوبے کی گورنس اور امن و امان کی صورتحال کو خراب کرنے کے درپے ہے‘ سندھ حکومت کا وفاق کسی صورت مائی باپ نہیں ہے‘ ہم وفاق کو پیسہ دیتے ہیں‘ موجودہ نالائق اور سلیکٹڈ حکومت نے ملک کو پتھروں کے دور میں لے جانے کی تیاری شروع کردی ہے‘ اب عوام کو صرف3 وقت کھانا بنانے کے لیے گیس فراہم کرے گی ‘ گندم، چینی، بجلی، گیس، ادویات سمیت ہر وہ چیز جو عام آدمی استعمال کرتا ہے اس کی قیمت میں بے انتہا اضافہ کردیا گیا ہے ۔ نسلہ ٹاور سمیت دیگر اس طرح کی عمارتوں کے حوالے سے سوال کے جواب میں سعید غنی نے کہا کہ نسلہ ٹاور سمیت ہزاروں کی تعداد میں صوبے بھر میں ایسی عمارتیں ہیں، جو بلڈنگ قوانین کی خلاف ورزی کی مرتکب ہیں‘ اسمبلی کے کچھ ارکان نے اس حوالے سے اسمبلی میں ایک قرارداد کے ذریعے سندھ حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ان ہزاروں عمارتوں اور اس میں رہنے والے لاکھوں مکینوں کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے قانون سازی کی جائے‘ ایک جانب پی ٹی آئی، ایم کیو ایم اور دیگر اپوزیشن جماعتوں کے ارکان اسمبلی نسلہ ٹاور ہو یا دیگر اس طرح کی عمارتوں کے مکینوں کے پاس جاکر ان سے اظہار یکجہتی کا ڈراما کرتے ہیں اور جب ہمارے ارکان ان کو قانونی تحفظ کے لیے بل لانے کی بات کرتے ہیں تو وہ اس کی مخالفت کرتے ہیں جو غلط ہے۔
