
نئی دہلی (انٹرنیشنل ڈیسک) بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے متنازع زرعی اصلاحات کا قانون واپس لینے کا اعلان کر دیا۔ بھارتی کسان گزشتہ ایک سال سے بالخصوص 3 قوانین کے خلاف سراپا احتجاج تھے، جس سے مودی حکومت کو شدید سیاسی چیلنجوں کا سامنا تھا۔ مودی نے جمعہ کے روزاپنے نشریاتی خطاب میں کہا کہ کسان اپنا احتجاج ختم کرتے ہوئے گھروں کو لوٹ جائیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ سردیوں کے وقفے کے بعد دسمبر میں شروع ہونے والے اولین پارلیمانی اجلاس میں ان قوانین کو واپس لے لیا جائے گا۔ اس پیش رفت کو بھارتی کسانوں کی احتجاجی تحریک کی بڑی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔ تاہم کسان تنظیموں نے متنازع قوانین کو پارلیمان سے باضابطہ واپس لینے تک احتجاج جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ پارلیمان کا آیندہ اجلاس 29نومبر سے شروع ہورہا ہے۔ مودی کا کہنا تھا کہ آج میں آپ کو اور پورے ملک کو یہ بتانے آیا ہوں کہ ہم نے تینوں زرعی قوانین کو واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ اسی ماہ کے اواخر میں پارلیمان اجلاس کے دوران ہم ان تینوں زرعی قوانین کو منسوخ کرنے کے لیے آئینی عمل کو مکمل کر لیں گے۔انہوں نے ان قوانین کے حوالے سے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ وہ مخالفین کو قائل کرنے میں ناکام رہے۔ میں بھارت سے معافی مانگتا ہوں، اور سچے دل اور نیک نیتی کے ساتھ یہ بات کہتا ہوں کہ ہو سکتا ہے کہ ہماری کوششوں میں کمی رہی ہو اور ہم کسانوں کو (ان قوانین کے بارے میں) قائل کرنے میں ناکام رہے ہوں۔ دوسری جانب بھارتیہ کسان یونین کے ترجمان راکیش ٹکیت نے کہا ہے کہ کسانوں کا احتجاج فوری طور پر واپس نہیں ہو گا۔انہوں نے جمعہ کے روز ایک ٹوئٹ کیا کہ احتجاج فوری طور پر واپس نہیں لیا جائے گا، ہم اس دن کا انتظار کریں گے، جب پارلیمان میں زرعی قوانین کو منسوخ کر دیا جائے گا۔ حکومت ایم ایس پی کے ساتھ ساتھ کسانوں کے دیگر مسائل پر بھی بات کرے ۔
