
لندن (انٹرنیشنل ڈیسک) فلسطین کو یہود کو پناہ بنا کر مذموم اسرائیل کی بنیاد رکھنے والے برطانیہ نے مسلمانوں کی مزاحمتی عسکری تنظیم حماس کو دہشت گرد قرار دے دیا۔ برطانوی وزیر داخلہ پریتی پٹیل نے حماس پر پابندیوں کا اعلان کیا۔ اس سے قبل انہوں نے اپنی ٹوئٹ میں کہا تھا کہ حکومت حماس کو دہشت گرد قرار دینے پر غور کررہی ہے،جس کے تحت فلسطینی تحریک سے تعلق ثابت ہونے پر ملزم کو 14برس قید کی سزا سنائی جاسکے گی۔ انہوں نے کہا کہ وہ آیندہ ہفتے پارلیمان میں تنظیم کو دہشت گرد قرار دینے کے لیے قانونی مسودہ پیش کر یں گی۔ انہوںنے کہا کہ حماس کے عسکری اور سیاسی دھڑوں میں تقسیم مشکل ہے، لہٰذا پوری تنظیم پر پابندیاں عائد کی جارہی ہیں۔ واضح رہے کہ امریکا اور یورپی یونین پہلے ہی حماس کو دہشت گرد تنظیم قرار دے چکے ہیں۔ سابق امریکی صدر ٹرمپ کے دور میں متحدہ عرب امارات، بحرین، مراکش اور سوڈان نے اسرائیل کے ساتھ مراسم استوار کرنے کا اعلان کرکے فلسطینی مزاحمت کی پیٹھ میں چھڑا گھونپ دیا تھا۔ ادھر فلسطین اور دنیا بھر میں مسلمانوں کے حقوق اور صہیونی مظالم کے خلاف کام کرنے والے تنظیموں نے لندن حکومت کے اعلان کی مذمت کرتے ہوئے فیصلے کو سختی سے مسترد کردیا۔ اس سے قبل یورپی یونین اور برطانیہ کی جانب سے فلسطینیوں پر مظالم کے خلاف اسرائیل سے زبانی احتجاج کیا جاتا رہا، تاہم اب لندن حکومت نے اپنا لبادا اتار دیا ہے۔ دوسری جانب اسرائیلی فوج نے مئی میں غزہ پر جارحیت کے دوران غزہ شہر میں جلا ٹاور پر بمباری اور تباہی کے بارے میں پیش کردہ رپورٹ میں تحریف کردی۔ رپورٹ کی فائل امریکی انٹیلی جنس کو سونپی گئی تھی،تاہم اب میں ترمیم کرکے وحشیانہ بمباری اورتباہی کو جواز فراہم کرنے کی ایک اور کوشش کی گئی ہے۔
