
منسک (انٹرنیشنل ڈیسک) بیلاروس نے کہا ہے کہ اس کے سرحدی محافظوں نے پولینڈ کے ساتھ سرحد کے قریب بنائے گئے مہاجرین کے عارضی خیموں کو خالی کرا لیا ہے۔ اس مقام پر تقریباً 2 ہزار مہاجرین جمع تھے، جو پولینڈ میں داخل ہونے کی کوشش میں تھے۔ ان مہاجرین میں سے تقریباً ایک ہزار کو ایک استقبالیہ مرکز میں منتقل کر دیا گیا ہے۔ بہت سرد موسم کے باعث ان تارکین وطن کو شدید مشکلات کا سامنا تھا، جب کہ وارسا کا یہ الزام بھی تھا کہ روس نواز بیلاروس ان مہاجرین کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کر رہا ہے۔ یہ معاملہ دونوں ممالک کے مابین سیاسی بحران کی شکل بھی اختیار کر گیا تھا۔ دوسری جانب جرمن چانسلر انجیلا مرکل نے کہا ہے کہ ان کی حکومت بیلاروس میں مہاجرین کے بحران کے حل میں اپنا کردار ادا کرے گی۔ مرکل کے ترجمان نے بتایا کہ برلن حکومت نے اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین یو این ایچ سی آر اور ادارہ برائے مہاجرت آئی او ایم سے وعدہ کیا ہے کہ وہ بیلاروس کے سرحدی علاقوں میں پھنسے تارکین وطن کو واپس ان کے ممالک بھیجنے کی کوششوں میں ان عالمی اداروں کی مدد کرے گی۔ بیلاروس اور پولینڈ کی سرحد پر یورپی یونین میں داخل ہونے کی کوشش میں ہزاروں مہاجرین جمع ہیں۔ ان میں خاص طور پر عراقی، شامی، یمنی اور افغانی مہاجرین شامل ہیں، جن میں سے عراقی مہاجرین کی واپسی شروع ہو گئی ہے۔ رائٹرز کے مطابق بیلاروس کی سرحد پر موجود سیکڑوں عراقی مہاجرین نے اپنے ملک کی واپسی کی ٹکٹیں بک کرانا شروع کر دی ہیں۔ سرحد پر شدید سردی اور کھلے آسمان کے نیچے مسلسل قیام انتہائی مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ منسک سے اربیل کی ایک پرواز عراقی اور کرد مہاجرین کو لے کر روانہ ہو چکی ہے۔ بیلاروس کے علاوہ یہ مہاجرین بالٹک ریاستوں لیتھوینیا اور لیٹویا کی سرحدوں پر بھی جمع ہیں اور یورپی یونین میں داخلے کی ان کی خواہش سخت سیکورٹی کی وجہ سے ابھی تک ادھوری ہے۔ اب تک ان مہاجرین میں سے 9 افراد شدید موسم کی وجہ سے اپنی زندگی ہار چکے ہیں۔ کئی ممالک سے یورپی یونین کے دباؤ کے نتیجے میں ہوائی کمپنیوں نے بیلاروس کے دارالحکومت منسک کے لیے پروازیں بھی معطل کر دی ہیں۔
