حیدرآباد(اسٹاف رپورٹر)بنیادی حقوق کمیشن پاکستان کے چیئرمین عبدالجبار رحمانی نے میرپور خاص کے قدیم تعلیمی ادارے گورنمنٹ کمپری ہینسو ہائر سیکنڈری اسکول کا مطالعاتی دورہ کیا ہے، عبدالجبار رحمانی اسکول پہنچے تو پرنسپل پروفیسر محمد جمیل احمد قریشی نے استقبال کیا ۔اسکول کے مختلف شعبوں لائبریری اور آرٹ گیلری دکھائی عبدالجباررحمانی نے آرٹ گیلری میں گہری دلچسپی کا اظہار کرتے ہوئے آرٹ گیلری کے اندر لگائے ہوئے شہ پازوں میں دلچسپی کا اظہار کیا، ٹیچر کی خصوصی دلچسپی کے سبب طلبا نے خصوصی بنائے ہوئے امیج دیواروں اور ونڈوز پر لگا کر گیلری کو چار چاند لگا دیے جو آرٹ گیلری کا دورہ کرنے والوں کو دیکھنے پر مجبور کر دیتا ہے۔ جبار رحمانی نے ان قلمی اورنائف سے بنے ہوئے شہ پاروں کو دیکھ کر اساتذہ اور طلبہ کی تعریف کی۔ اس موقع پر اساتذہ نے بتایا کسی زمانے میں اس اسکول میں ایڈمیشن کے لیے سفارشیں کی جاتی تھیں مگروقت کے ساتھ سیاسی مداخلت کے سبب اور دوسرے اداروں کی طرح یہ ادارہ زبوحالی کاشکارہوا وسیع وعریض رقبے پرقائم یہ ادارہ ارباب اقتدار کی معمولی توجہ سے ایک بار پھراپنی تمام تررعنائیوں کے سبب مادر علمی کارول ادا کرسکتا ہے اس وقت بھی اس ادارے میں ہر مضمون کے قابل ترین اسپورٹ اور ڈرائنگ کے سینئر ترین اساتذہ سمیت فعال عملہ موجود ہے مگربدقسمتی سے اس ادارے کو تباہی کے دہانے پرپہنچادیاگیاہے۔ لائبریری میں کتابوں کی ضرورت کے ساتھ ساتھ اسکول ڈیسک سمیت کرسیوں کی فوری ضرورت ہے جس سے طلبا کو یکسوئی سے تعلیم کے حصول میں بھرپورتوجہ ملنے کی کوشش کی اشد ضرورت ہے قدیم عمارت کا ڈیزائن اس طرح سے ہے دالان کے اردگرد شجرکاری کرنے سے ماحول خوشگوار کیاجاسکتاہے۔ بلڈنگ کی معمولی مرمت اسکول کی عمارت کوچارچاند لگاسکتی ہے اسکول کی حالت بدلنے کے لیے طلباء اور اساتذہ دونوں پرعزم ہیں۔اس موقع پر عبدالجباررحمانی نے کہا کہ ارباب اقتدار وزیراعلیٰ سندھ و ملٹی نیشنل ادارے کچھ توجہ دیں تو میرپورخاص کایہ قدیم تعلیمی ادارہ اپنی کھوئی ہوئی عظمت بحال کرسکتا ہے۔ وزیراعظم پاکستان کے کلین اور گرین پاکستان پروگرام کے تحت اس اسکول میں شجرکاری اور وزیراعلیٰ سندھ علم دوستی کابھرم رکھتے ہوئے مرمت کاکام اور کوئی ایک ملٹی نیشنل ادارہ ضروری فرنیچر فراہم کردے تو گورنمنٹ کمپری ہینسو ہائرسکینڈری اسکول میرپورخاص منی یونیورسٹی کا منظرپیش کر سکتا ہے۔ عبدالجباررحمانی نے کہا بنیادی حقوق کمیشن پاکستان اس اسکول کو بدحالی سے نکالنے کے لیے حیدرآباد سے صحافیوں کی ٹیم کے ساتھ دورے کا اہتمام کرے گا جواسکول کی ضروریات سے متعلق آگہی کے لیے اپناکردار ادا کریں گے اور اسکول بچانے کے لیے اداروں کو آگے لاکراس اسکول کی عظمت بحال کرانے کی جانب توجہ دلائو مہم شروع کریں گے۔ممکن ہے بنیادی حقوق کمیشن پاکستان کی یہ کوشش کارگرثابت ہو اور قدیم علمی درس گاہ ماضی کی طرح آج بھی اپنا علمی خزانہ اہل میرپورخاص کے لیے عام کرسکے۔
