English Al Qamar Urdu جون 24, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

امریکہ: کرسمس پریڈ پر چڑھ دوڑنے والا ڈرائیور ممکنہ طور پر کسی اور وقوعہ میں ملوث تھا

امریکہ کی ریاست وسکانسن کے شہر ملواکی کے علاقے واکیشا میں اتوار کو کرسمس پریڈ کے دوران ایک تیز رفتار گاڑی نے شرکا کو کچل دیا جس کے نتیجے میں پانچ افراد ہلاک اور 40 زخمی ہو گئے۔

واکیشا کے پولیس چیف ڈین تھامسن کے مطابق کرسمس پریڈ کے دوران ایک ایس یو وی گاڑی بچوں سمیت کم از کم 40 افراد پر چڑھ دوڑی۔ ان کے بقول واقعے کی تحقیقات کی جا رہی ہیں جب کہ مشتبہ گاڑی اور شخص کو تحویل میں لے لیا گیا ہے۔

خبر رساں ادارے ‘ایسوسی ایٹڈ پریس’ کے مطابق محکمۂ پولیس نے تصدیق کی ہے کہ اس واقعے کے نتیجے میں پانچ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ ایک فیس بک پوسٹ میں پولیس نے کہا کہ ہلاک افراد کی تعداد میں اضافہ بھی ہو سکتا ہے کیوں کہ مزید تفصیلات اکٹھی کی جا رہی ہیں۔

حکام نے ابھی اس بارے میں کچھ نہیں بتایا کہ آیا اس واقعے کا تعلق دہشت گردی سے ہے۔

پیر کی شام وسکانسن میں پولیس ذرائع نے بتایا کہ وہ اس امکان کے بارے میں تحقیقات کر رہے ہیں کہ اتوار کے روز ووکیشا شہر میں جو گاڑی ہالی ڈے پریڈ پر چڑھ دوڑی تھی، اس کا ڈرائیور جائے واقعہ سے فرار ہو رہا تھا۔

اپنا نام صیغہ راز میں رکھنے کی شرط پر ایک پولیس آفیسر نے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا ہے کہ تفتیش کار مشتبہ شخص سے جو تحویل میں ہے، مجرمانہ واقعہ کے بارے میں پوچھ گچھ کر رہے ہیں۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ اس واقعے میں ایک چاقو بھی پایا گیا ہے۔

شہر کی انتظامیہ نے ہلاک ہونے والوں کے بارے میں مزید تفصیلات جاری نہیں کی ہیں۔ انتظامیہ نے کہا ہے کہ جس جگہ واقعہ پیش آیا وہاں قریبی سڑکیں اور کاروبار بند رہیں گے۔ ووکیشا کے اسکول بھی بند کر دیے گئے ہیں۔ پولیس نے بتایا ہے کہ اتوار کو مقامی وقت کے مطابق سہہ پہر کو کرسمس کی سالانہ پریڈ منعقد ہو رہی تھی جب ایک گاڑی تیز رفتاری سے پریڈ کے روٹ پر آ گئی۔

ووکیشا پولیس کے سربراہ ڈین تھامپسن نے صحافیوں کو بتایا کہ ایک پولیس آفیسر نے گاڑی کو روکنے کے لیے اس پر گولیاں چلائیں۔ سوشل میڈیا پر جاری ایک وڈیو میں بظاہر دیکھا جا سکتا ہے کہ پولیس گاڑی پر فائرنگ کر رہی ہے جب وہ سڑک پر لگائی رکاوٹوں سے آ ٹکرائی۔ تھامپسن کا یہ بیان اس سے قبل جاری ہونے والی رپورٹوں کے برعکس ہے۔ پریڈ میں تمام عمر کے افراد شریک تھے اور زخمی ہونے والوں میں دو سال کے بچوں سے لے کر بڑی عمر کے افراد شامل ہیں۔

گورنر ٹونی ایورز نے اتوار کو دیر گئے ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ اور ان کی اہلیہ کیتھی واوکیشا کے تمام بچوں، خاندانوں اور اس غیر ہوشمندانہ اقدام سے متاثر ہونے والے افراد کے لیے دعا کر رہے ہیں۔

وسکانسن کی پروفیشنل سپورٹس فرنچائز نیشنل فٹبال لیگ کی گرین بے پارکر اور نیشنل باسکٹ بال ایسوسی ایشن ملواکی بک نے اپنی ویب سائٹس اور سوشل میڈیا اکاونٹس پر اس واقعے سے متاثرہ افراد کے ساتھ افسوس کیا ہے اور ان کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔

امریکہ کے صدر جو بائیڈن کو اس واقعے سے متعلق بریف کر دیا گیا ہے۔ وائٹ ہاؤس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس واقعے کی نگرانی کی جا رہی ہے۔ اس سلسلے میں ریاست وسکانسن اور مقامی حکومت کی مدد کے لیے ان سے رابطہ کیا گیا ہے۔

ایکی عینی شاہد نے ملواکی کے مقامی ٹی وی چینل کو بتایا کہ ایس یو وی گاڑی جب پریڈ کے شرکا سے آکر ٹکرائی تو اس کی رفتار 64 کلومیٹر فی گھنٹہ تھی۔

حکام کا کہنا ہے کہ زخمی ہونے والے کئی بالغ افراد اور بچوں کو اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے جس میں سے زیادہ تر کو ان کے گھر والوں اور دوستوں نے اسپتال پہنچایا۔

جائے وقوع کے پاس پولیس کی گاڑیاں( فوٹو رائٹرز)

جائے وقوع کے پاس پولیس کی گاڑیاں( فوٹو رائٹرز)

پریڈ کے شرکا کے لیے یہ ایک خوف ناک منظر تھا جسے براہِ راست نشریات میں دیکھا گیا جب کہ ارد گرد کھڑے لوگوں نے بھی اسے ریکارڈ کیا۔

قبل ازیں پولیس چیف نے بتایا تھا کہ اس ضمن میں ایک شخص کو تحویل میں لیا گیا ہے لیکن پولیس نے واقعے کے درپردہ محرکات سے متعلق کوئی تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

واقعے کی سامنے آنے والی ایک ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ گاڑی اس وقت سینٹا کلاز کے ہیٹ پہنی لڑکیوں کے ایک گروپ سے ٹکرائی جب وہ سفید پومپوز لیے رقص کر رہی تھیں۔ اس منظر کو دیکھ کر ایک خاتون نے چلا کر کہا "او میرے خدا، او میرے خدا۔”

ایک عینی شہد خاتوں نے ایک ٹی وی چینل کو بتایا کہ ان لڑکیوں کی عمریں نو سے پندرہ سال تک بتائی جاتی ہیں۔

واکیشا کے میئر شان رائیلی نے ملواکی شہر میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ واقعے کے بعد عوام کو کوئی خطرہ درپیش نہیں ہے۔ تاہم پولیس نے عوام کو ہدایت کی ہے کہ وہ وسطی علاقے میں جانے سے گریز کریں۔

اس خبر میں شامل معلومات خبر رساں ادارے ‘ایسوسی ایٹڈ’ پریس سے لی گئی ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے