سابق چیف جسٹس کی آڈیو لیک منظر عام پر آنےکے بعد اپوزیشن اور حکومت مخالف افراد یہ دعوٰی کرتے دکھائی دیتےہیں کہ یہ آڈیو ٹیپ حقیقی ہے جبکہ دوسری جانب حکومت مشیران اور وزراء کی فوج اسے جعلی ثابت کرنے پر تلی ہوئی ہے۔ حکومت مشیر اور اپوزیشن مخالف بعض افراد مبینہ آڈیو ٹیپ کے معاملے پر اب یہ ثابت کرنے کی بھی کوشش کی جا رہی ہے کہ اسے سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کی مختلف تقاریر کو جوڑ کر بنایا گیا ہے۔ دوسری جانب وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری نے ایک ویڈیو پوسٹ کرکے کہا ہے کہ لگتا ہے ججوں کیخلاف مہم کی تیاری ذرا جلدی میں کی گئی۔ اس مذموم مہم کے پیچھے سارے کردار سامنے ہیں۔ اُمید ہے اس معاملے میں عدالتیں نرم رویہ اختیار نہیں کریں گی اور اس توہین آمیز مہم کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔
خیال رہے کہ ثاقب نثار بھی سوشل میڈیا پر زیر گردش اس آڈیو ٹیپ کو خود ساختہ اور جعلی قرار دے چکے ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ میں نے کبھی کسی سے اس طرح کی کوئی بات نہيں کی، نہ کسی نے ہدايات ديں، ايجنڈے کے تحت ایسی باتيں لائی جا رہی ہيں۔ اس سے قبل سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کا ایک مبینہ آڈیو ٹیپ سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہا ہے، جس میں کہا جا رہا ہے کہ عمران خان کی جگہ بنانے کیلئے نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز کو بھی سزا دینی ہوگی۔ جسٹس (ر) ثاقب نثار نے کہا ہے کہ کسی نے ہدايات ديں نہ کسی کو پاس آن کيں، کسی خاص ايجنڈے کے تحت ایسی باتيں لائی جا رہی ہيں۔ میں اس معاملے ہر قانونی راستہ اختیار کرنے کا سوچ رہا ہوں۔
اس سٹوری کو چھاپنے والے صحافی احمد نورانی تاہم یہ چیلنج کرتے دکھائی دیتے ہیں کہ اس آڈیو کا فرانزک کروا کر سچ جھوٹ کو سامنے لایا جائے۔ احمد نورانی نے کہا ہے کہ ایک صحافی ایسی ہی خبر کو تحریر میں لاتا ہے جس کا ناقابل تردید ثبوت موجود ہو۔ سوال یہ کہ ثاقب نثار کی آڈیو ٹیپ میں وہ کس سے بات کر رہے ہیں، تو میری سٹوری کو اگر غور سے پڑھا جائے تو اس کا جواب مل جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ مجھے دو ماہ قبل یہ آڈیو ریکارڈنگ ملی جس کو میں نے شک کی نگاہ سے ہی دیکھا کہ اس میں موجود آواز سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کی ہے بھی یا نہیں اور یا کسی بھی حوالے سے ٹیمپرڈ تو نہیں ہے؟ کیونکہ اس میں بہت ہی اہم اداروں اور شخصیات کا ذکر تھا۔ یہ چیز بڑی واضح تھی کہ ایسی کوئی بھی خبر سامنے آنے سے قانونی کارروائی بھی ہو سکتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ مجھے ہر چیز کی احتیاط کرنا تھی۔ اس مقصد کیلئے سب سے پہلے میں نے آواز کی جانچ کروائی کہ آیا یہ اوریجنل ہے یا نہیں۔ اس مقصد کیلئے ہمیں ایک دوسرا وائس سیمپل چاہیے تھا، وہ بجائے میں نے کسی سے لینے کے ریڈیو پاکستان کی آفیشل ویب سائٹ سے حاصل کیا۔ وہاں سے ہمیں آواز کے بہت سے سیمپلز ملے جس کا جب آڈیو سے میچ کیا گیا تو اس کا سو فیصد رزلٹ آیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مجھے اس بات پر ہنسی آ رہی ہے کہ کہا جا رہا ہے کہ اس آڈیو کو کاٹ چھانٹ کرکے بنایا گیا کیونکہ میں نے جس امریکی فرانزک لیب سے اسے چیک کرایا اس نے اپنی مکمل رپورٹ میں کہا ہے کہ اس میں کسی قسم کی ایڈیٹنگ نہیں کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ میری یہ ذمہ داری تھی کہ میں اپنی اس خبر کیلئے سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کا بھی موقف حاصل کروں۔ اس مقصد کیلئے میں نے انھیں ٹیلی فون کیا اور تمام باتیں ان کے گوش گزار کیں تو انہوں نے پورے وثوق کیساتھ کہا کہ کیس کے دوران ان سے کبھی کسی فوج کے بندے نے رابطہ نہیں کیا۔ عدلیہ پر کسی قسم کا دبائو نہیں تھا۔
واضح رہے کہ اس خبر کی ٹائمنگ بہت اہم ہے کیونکہ اس سے قبل گلگت بلتستان کے سابق چیف جج رانا شمیم اپنا بیان حلفی سامنے لے آئے تھے، اس لئے لوگوں کو شاید اس سے پریشانی ہو کہ یہ مہم ضرورت سے زیادہ بڑھنے لگی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ معاملہ حکومت کے نمائندوں نے بگاڑا ہے، وہ درمیان میں آکر وکیل بن بیٹھے ہیں، وہ ثاقب نثار کی وکالت کیوں کر رہے ہیں؟ واضح رہے کہ یہ معاملہ بہت ہی سنگین ہے کیونکہ دو حاضر سروس معزز ججوں نے صرف بیرون ممالک چلنے والی پانامہ لیکس کی خبروں پر بغیر ٹرائل کئے سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کو نااہل قرار دیدیا تھا۔ وہ جج ابھی تک سپریم کورٹ کا حصہ ہیں۔ کیا موجودہ چیف جسٹس گلزار احمد کو اپنے ادارے کی عزت کی خاطر اس بات کا نوٹس نہیں لینا چاہیے؟ اس کے علاوہ ان کے پاس اور کوئی راستہ نہیں ہے۔ آنکھیں بند کر لینے سے یہ بلا ٹل نہیں جائے گی۔
اب سوال صرف ایک ہے کہ کیا موجودہ چیف جسٹس ، جو ایک روز قبل ڈیسک پر مکے مار کر فرما رہے تھے کہ ان کا ادارہ آزاد ہے ، کیا وہ اس عدالتی تحقیقات کروائیں گے کیونکہ معاملہ اب عدلیہ کے وقار کا ہے۔
منگل، 23 نومبر 2021
شفقنا اردو
ur.shafaqna.com
The post معاملہ اب عدلیہ کے وقار کا ہے appeared first on شفقنا اردو نیوز.
