جماعت اسلامی کے رکن سندھ اسمبلی سید عبدالرشید نے کہا ہے کہ لیاری میں ایک مرتبہ پھر قتل و غارت شروع ہوگئی ہے ۔عوام کے مسائل اجاگر کرنے کے جرم میں میرے گھر پرفائرنگ کی گئی ۔اگرلیاری میں گولیاں چلانے والوں کر گرفتارنہ کیاگیا تو پورالیاری لے کراسمبلی آؤںگا اور احتجاج کروںگا۔دعا گو ہوں کہ اللہ تعالیٰ اس ظالم حکومت سے عوام کی جان چھڑادے ۔وہ بدھ کو سندھ اسمبلی میں پوائنٹ آف آرڈر پر گفتگو کررہے تھے ۔سید سید عبدالرشید نے کہا کہ میرا قانونی حق ہے کہ میں عوام کے مسائل پر بات کروں۔میں اس دن تقریر کی تھی لیاری میں نالے پر پیپلز پارٹی کا دفتر بنا ہے۔ہم رات کو احتجاج کے لیے نکلے تو گولیاں چلائی گئیں ۔پانی کی لائن کاٹ دی گئی ۔جب میں وہاں گیا تو ایس ایچ اونے کہا کہ واٹر بورڈ نے غلط لائن لگائی ہے۔میں خود اس احتجاج میں موجود تھا ۔مظاہرین پر فائرنگ کی گئی جس سے دو بچے زخمی ہوگئے ۔میرے گھر پر بھی فائرنگ اور پتھراؤ کیا گیا ۔انہوںنے کہا کہ لیاری نے 14 سال تک گینگسٹر کو برادشت کیا ہے ۔گتے کے کارخانہ میں کام کرنے والا بچے کا بجلی کی بندش کے خلاف احتجاج اس کا حق ہے۔دنیا نے دیکھا ہے گولی چلانے والے کون تھے ۔ابھی تک ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوئی ہے ۔لیاری کے لوگوں کو جینے کا حق ہے۔لیاری میں منشیات فروخت ہورہی ہے ۔لیاری کے لوگ اپنے حق کیلیے نکلیں گے۔گولیاں برسانے والوں کو گرفتار کیا جائے بصورت دیگر میں پورا لیاری اسمبلی لے کر آؤں گا۔پھر میں دیکھوں گا کہ اسمبلی کیسے چلتی ہے ۔سید عبدالرشید نے کہا کہ بجلی کی بندش اور فائرنگ پر میں نے وزیر توانائی اور پولیس کو فون کیا لیکن کسی نے ہماری نہیں سنی ۔میں دعا کروں گا کہ اللہ تعالیٰ اس ظالم حکومت سے عوام کی جان چھڑادے ۔
.

