English Al Qamar Urdu جون 24, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

گیس بحران کی ذمہ دار حکومت ہے،مشیر خزانہ کا اعتراف

القمر

اسلام آباد(خبر ایجنسیاں) مشیر خزانہ شوکت ترین کا کہنا ہے کہ حکومت کے بروقت اقدامات نہ کرنے کے باعث ملک میں گیس بحران آیا۔ نجی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے مشیر خزانہ شوکت ترین کا کہنا تھا کہ جب گیس کے کارگو لینے کا وقت تھا اس وقت نہیں لیے گئے، اب وقت گزر چکا ہے اور عالمی سطح پر گیس کی قیمتیں بلند ہوچکی ہیں۔دریں اثناء وزیراعظم عمران خان کے مشیر برائے خزانہ شوکت ترین نے کہا ہے کہ وزیراعظم کے ویژن کے تحت نوجوانوں کو اوپر لانا ہے ، کامیاب جوان پروگرام کے تحت نوجوانوں کو 24 سے 26 ارب روپے دیے گئے ہیں۔ مشیر خزانہ نے کہا کہ کامیاب پاکستان پروگرام لارہے ہیں جس کے تحت کسانوں کو قرضے دیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ کامیاب پاکستان کے تحت ہر خاندان کے ایک فرد کو 5 لاکھ روپے تک کا قرضہ دیا جائے گا۔شوکت ترین نے کہا کہ نچلے طبقے کے لیے آسانیاں پیدا کریں گے تاکہ وہ اپنے پاں پر کھڑے ہوسکیں۔ کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے مشیرخزانہ شوکت ترین نے کہا کہ کامیاب پاکستان پروگرام کے تحت غریب طبقے کو بنا سود کے بغیر قرضے دیے جائیں گے۔ مشیر خزانہ شوکت ترین کی زیر صدارت نیشنل پرائس مانیٹرنگ کمیٹی (NPMC) کا اجلاس بدھ کو منعقد ہوا۔ نیشنل پرائس مانیٹرنگ کمیٹی نے ملک میں روزمرہ استعمال کی اشیا اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کا جائزہ لیا۔سیکرٹری خزانہ نے کمیٹی کو ہفتہ وار ایس پی آئی SPI کی صورتحال کے بارے میں بتایا جس میں زیر جائزہ ہفتہ کے دوران 1.07 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا۔ اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کے رجحان کا جائزہ لیتے ہوئے سیکرٹری خزانہ نے بتایا کہ گزشتہ ہفتے کے دوران 10 اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں کمی ریکارڈ کی گئی جبکہ 14کی قیمتوں میں استحکام رہا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ضروری اشیا پیاز، آلو، کوکنگ آئل کی قیمتوں میں گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں نمایاں کمی آ ئی۔ مشیر خزانہ نے چینی کی قیمتوں میں استحکام پر اطمینان کا اظہار کیا اور وزارت صنعت و پیداوار پر زور دیا کہ وہ آنے والے مہینوں میں چینی کی ہموار فراہمی کے لیے ملک میں چینی کے اسٹریٹجک ذخائر پیدا کرنے کے لیے مناسب اقدامات کرے۔ مشیر خزانہ نے صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی کہ کھاد کے ذخیرہ اندوزوں کے خلاف کارروائی کی جائے، قلت کو روکا جائے اور تمام صوبوں میں کھاد کی ارزاں نرخوں پر دستیابی یقینی بنائی جائے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے