کراچی: اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) نے کہا ہے کہ ترقی کی موجودہ رفتار کو برقرار رکھنے اور بہتر بنانے کے لیے رکاوٹوں کو دور کرنا بہت ضروری ہے۔
مرکزی بینک کی سالانہ رپورٹ میں کہا گیا کہ ان رکاوٹوں میں اہم فصلوں (خاص طور پر کپاس) کی پیداوار میں مسلسل کمی شامل ہے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ درآمدات کی ناکافی کوریج، لیبر کی کمی اور گرتی ہوئی پیداواری صلاحیت، جمود کا شکار ٹیکس ٹو جی ڈی پی تناسب، سرمایہ کاری سے جی ڈی پی کے تناسب میں کمی اور پاور سیکٹر کا بڑھتا ہوا مالی بوجھ بھی معاشی ترقی میں رکاوٹ ہیں۔
اسٹیٹ بینک نے اپنی رپورٹ بعنوان ’دی اسٹیٹ آف پاکستان اکانومی‘ میں مالی سال 2022 کے لیے جی ڈی پی کی شرح نمو 4 سے 5 فیصد کی حد میں رہنے کا تخمینہ لگایا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ مشینری اور خام مال کی درآمدات میں نمایاں اضافہ، صارفین کی مالی اعانت میں مسلسل توسیع اور مقامی سطح پر فروخت میں اضافے سے ظاہر ہوتا ہے جیسا کہ مالی سال 22 کے ابتدائی مہینوں کے دوران خاطرخواہ طلب کی وجہ سے ہے۔

