
لاڑکانہ،دادو (نمائندگان جسارت ) چانڈکا میڈیکل کالج لاڑکانہ میں مبینہ خودکشی کرنے والی طالبہ نوشین کاظمی کی ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ جاری کر دی گئی ہے۔رپورٹ کے مطابق نوشین کاظمی کی موت گلے میں پھندا لگنے کے باعث ہوئی۔نوشین کاظمی کے
گلے پر 26 سینٹی میٹر لمبے اور ایک سینٹی میٹر چوڑے نشانات پائے گئے۔نوشین کاظمی کے دونوں پھیپڑوں میں خون کے نشانات پائے گئے۔پوسٹ مارٹم رپورٹ میں نوشین کاظمی کے جسم پر کسی تشدد کے نشانات کا ذکر نہیں۔رپورٹ کے مطابق نوشین کاظمی کے جسم کے اعضاءمزید کیمیکل ایگزیمینیشن کے لیے بھجوائے جا رہے ہیں۔نوشین کاظمی کی حتمی پوسٹ مارٹم رپورٹ لیبارٹریز کی رپورٹ آنے کے بعد جاری کی جائے گی۔دوسری جانب مبینہ خودکشی کے معاملے پر جامعہ بینظیر بھٹو پروفیسر انیلا عطاالرحمن نے 5 رکنی فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی تشکیل دے دی ہے جو کہ 5 پانچ روز میں تحقیقات کر کے وائس چانسلر کو رپورٹ پیش کرے گی جبکہ ڈی آئی جی لاڑکانہ مظہر نواز شیخ نے بھی وائس چانسلر سے ملاقات کی اور جاںبحق طالبہ کی روم میٹس اور کلاس فیلوز کے انٹرویوز بھی کیے۔ اس موقع پر ڈی آئی جی لاڑکانہ کا کہنا تھا کہ پولیس کو تمام فارنسک شواہد، سوسائیڈ نوٹ، فنگر پرنٹس اور موبائل مل چکے ہیں، اس عمر میں طالب علم کئی نوعیت کے ذہنی دباﺅ کا شکار ہوتے ہیں تاہم اس وقت کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہے ۔واقعے کا مقدمہ درج نہیں ہوسکا، دوسری جانب جامعہ شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کی جانب سے جامعہ کے ماتحت تمام اداروں اور ہاسٹلز کو بند کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا تاہم 24 گھنٹوں کے بعد نوٹیفکیشن واپس لے لیا گیا۔دریں اثنا فورتھ ائر کی طالبہ نوشین کاظمی کی لاش ضروری کارروائی بعد رات دیر گئے دادو شہر کے جھنگل شاہ محلے میں لایا گیا جس کے باعث ماحول سوگوار ہوگیا تاہم بعد ازاں پیر محمد مراد ناکہ قبرستان میں نماز جنازہ ادا کی گئی جس میں شہریوں، سیاسی، سماجی، مذہبی، سول سوسائٹی ،صحافیوں ،ادیبوں اورشاعروں سمیت تمام مکاتب فکر کے سیکڑوں افراد نے شرکت کی بعدازاں انہیں پیر محمد مراد قبرستان میں سپرد خاک کردیا گیا ۔ اس موقعے پر نوشین کاظمی کے والد سید ہدایت اللہ علی شاہ کا کہنا تھا کہ میری بیٹی ہونہار طلبا میں سے تھی 18، 18 گھنٹے تک پڑھائی کرتی تھی ہاسٹل کے روم میں ہی عبادت کے لیے بھی جگہ مختص کردی تھی، بیٹی نے کبھی بھی ایسی کوئی شکایت نہیں کی ، پتہ نہیں اچانک کیا ہوگیا ۔ان کا مزید کہنا تھا کہ میری بیٹی کے ساتھ جو روم میٹ تھیں ان کو بھی شامل تفتیش کیا جائے۔ دوسری جانب شہر کی سیاسی، سماجی شخصیات میں شدید غم و غصہ پایا جارہا ہے جبکہ دادو پریس کلب کے صدر صابر بھنڈ، سید فدا حسین شاہ کاظمی،پروفیسر عرفان کلہوڑو، ڈاکٹر سید الطاف شاہ بخاری اور تابش بخاری سمیت دیگر نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ پاکستان کے نامور فاضل جج جسٹس صلاح الدین پنہور یا کسی غیر جانبدار فاضل جج کی نگرانی میں جے آئی ٹی ٹیم تشکیل دے کر تمام پہلوﺅں سے تحقیقات کروا کر حقائق سامنے لائیں جائیں جبکہ سندھی ادبی سنگت سندھ کی جانب سے بھی سندھ کے قومی اور عوامی شاعر استاد بخاری کی نواسی ڈاکٹر نوشین شاہ کاظمی کی پراسرار ہلاکت پر دکھ اور افسوس کا اظہار کیا گیا ہے۔ سندھی ادبی سنگت سندھ کے مرکزی پریس ترجمان آزاد انور کاندھڑو نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ واقعے کی غیر جانبدارانہ صاف شفاف تحقیقات کروائی جائے ۔
