English Al Qamar Urdu جون 28, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

اسرائیل نے یروشلم میں سیاحت کو محدود کر کے فلسطینی معیشت کو کس طرح نقصان پہنچایا: شفقنا بین الاقوامی

القمر
عماد ابو خدیجہ ، یروشلم میں ایک فلسطینی تاجر شہر کے قدیم حصے میں ایک خوبصورت ریسٹورنٹ کے مالک ہیں ۔ بے تحاشا ٹیکسز اور اسرائیلی حکام کی جانب سے مسلسل خوفزدہ کیے جانے کے بعد انہیں اب یہ خوف ہے کہ ان کا بزنس ضبط ہو جائے گا۔ اس کی وجہ اس حصے کی تاریخی اور جغرافیائی اہمیت ہے۔فلسطینی ایکٹوسٹ لینا کیڈک ابو خدیجہ کی کہانی سےمتعلق آگاہی پھیلانے کی کوشش کر رہی ہیں اور اس کے ساتھ ان کے لیے مالی اور اخلاقی حمایت کی کوشش میں ہیں۔  ان کا کہنا تھا کہ جب انہوں نے اور ان کے دوستوں نے ابو خدیجہ کے ریسٹورنٹ کا دورہ کیا، ہم نے اس حوالے سے آگاہی پھیلانے کے لیے چھوٹی چھوٹی تقریبات کے انعقاد کا فیصلہ کیا ۔ ہم نے اس کے ریسٹورنٹ پر موسیقی کی شام اور کوئز کا انعقاد کیا اور اس میں یروشلم کے نوجوانوں کو مدعو کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اور اس کے دوست شہر میں چھوٹے پیمانے پر تجارت کو سپورٹ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاہم اس عمل میں انہیں اسرائیلی حکام کی جانب سے حملوں اور ہراسگی کا سامنا ہے۔
یروشلم میں مقیم ایک فلسطینی جلال عاقل جو کہ اس وقت امریکہ میں پڑھائی کے سلسلے میں مقیم ہیں اسی طرح کی کہانی بیان کرتے ہیں۔ یروشلم کے آخری دورے کے دوران عاقل کو اپنی پسندیدہ پیزا شاپ نظر نہیں آئی جو اب وہاں موجود ہی نہیں ہے۔ پیزا کی یہ دکان یروشلم میں ہو‌لی سپلکر چرچ کے قریب موجود تھی۔ عاقل کا کہنا تھا کہ وہ ریسٹونٹ کے مالک کے دوست بن گئے تھے انہوں نے وہاں تھوڑا پیزا کھایا اور تھوڑی سے کافی پی۔ عاقل کا کہنا تھا کہ اب ان کے ساتھ اپنے ہی وطن میں سیاح اور مجرم کے طور پر سلوک کیا جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ جولائی میں وہ یروشلم کے قدیم حصے میں گئے مگر پتا چلا کہ وہ بند ہوگیا ہے۔ عاقل نے بتایا کہ جب وہ مجھے آخری مرتبہ ملے تو وہ شکایت کر رہے تھے کہ اب نہ تو گاہک آتے ہیں اور نہ ہی سیاح اور ان کا کاروبار ٹھپ ہوگیا ہے ۔ اب وہ محض اپنا وقت ضائع کر رہے ہیں ۔
عاقل یروشلم شہر کے حالیے دورے کے بارے میں کہتے ہیں انہوں نے یروشلم کے اس قدیم شہر میں فلسطینیوں کی کئی دکانیں دیکھی تھیں جن پر وہ اکثر جاتا تھا مگر اب وہ بند ہوچکی ہیں۔ یہ دکانیں کیوں بند ہوئی ہیں؟ اسرائیلی کہتے ہیں کہ یہ کرونا کی وجہ سے بند ہوگئی ہیں۔ تاہم عاقل حیران ہے کہ اس علاقے میں اسرائیلیوں کی دکانیں اسی طرح چل رہی ہیں مگر کرونا کی وجہ سے صرف مسلمان فلسطینیوں کی دکانیں بند ہوئی ہیں۔ 2019  میں جاری ایک رپورٹ کے مطابق اسرائیلی حکام نے گزشتہ دو دہائیوں میں فلسطینیوں کی 430 کے قریب دکانیں بند کر دی ہیں۔ اقوام متحدہ کی ٹریڈ اینڈ ڈویلپمنٹ کی ایک رپورٹ کے مطابق گزشتہ ایک دہائی سے علاحدگی کی تحریک کی وجہ سے شہر کی جغرافیائی اور آبادیاتی حقائق کو تبدیل کر دیا گیا ہے اور اس کا سب سے بڑا شکار عرب فلسطینی ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل بدستور اپنے قوانین فلسطینیوں پر مسلط کررہا ہے۔ ان حالات میں فلسطین اور اسرائیل کا تنازعہ حل ہونے کی امید کے بجائے اسرائیل کے غاصبانہ قبضے میں اضافہ اور فلسطینیوں کی اقتصادی اور سماجی صورتحال بدتر ہوئی ہے۔

نوآبادیت کا مشہور ہتھیار

فیروز شرقاوی جو کہ زمینی سطح پر القدز نامی ایک تنظیم چلاتی ہیں جس کا مقصد یروشلم میں فلسطینی تحریک اور انکی جڑت کے لیے کام کرتی ہے کا کہنا ہے کہ 1967 میں اسرائیلی قبضے سے لے کر آج تک فلسطینی کمیونٹی ایک منظم سازش کا شکار ہے ےاور ان کو ان کی جائیداد سے مسلسل بے دخل کیا جارہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اسرائیلی کی ہی پالیسیاں جگہ پر قبضے، فلسطینیوں کے بزنس کو تباہ کرنا اور ان کی قانونی حیثیت کو ختم کرنے تک شامل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ نو آبادیات کا ایک مشہور ہتھیار معیشت ہے اور یروشلم میں رہنے والے فلسطینی اسی ہتھیار کا شکار ہیں۔ اسرائیلی فلسطینیوں کو مالی طور پر کمزور کر کے انہیں یروشلم سے نکلنے پر مجبور کر رہے ہیں۔ درحقیقت ان کا معاشی مقاطعہ چل رہا ہے جس سے ان کے کاروبار تباہ ہوکر رہ گئے ہیں۔
اسرائیل میں انسانی حقوق کی تنظیم کی ایک رپورٹ کے مطابق اسرائیلی اور فلسطینی آبادی کے مابین غربت کی وسیع خلیج موجود ہے اور یروشلم میں 75 فیصد فلسطینی آبادی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کررہی ہے جبکہ اس کے مقابلے میں اسرائیلی آبادی کا یہی تناسب 22 فیصد ہے۔ کرونا وائرس وبا کے بحران کے دوران ، یہ فرض کیا گیا ہے کہ اس تناسب میں مزید اضافہ ہوچکا ہوگا۔ حتی کہ بچوں میں یہ صورتحال اور خراب ہے 2017 میں 86 فیصد فلسطینی بچے جبکہ 33 فیصد اسرائیلی بچے غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کر رہے تھے۔ شرقاوی نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ یروشلم میں غربت 80 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔

سیاحت پر اثرات

چونکہ یروشلم دنیا کا ایک اہم سیاحتی مقام ہے جس کی بری وجہ اس کی مذہبی اور تاریخی اہمیت ہے اس لیے یروشلم میں رہنے والے فلسطینی سیاحت پر ہی انحصار کرتے ہیں۔ سیاحت ان کی معیشت کا 40 فیصد ہے تاہم فلسطینی کارکنان کے مطابق جس حصے میں فلسطینی رہتے ہیں اسرائیلی حکومت ان حصوں کو سیاحوں کے لیے خطرناک قرار دے دیتی ہے۔ شرقاوی کا کہنا ہے کہ ہماری آواز کو کوئی نہیں سنتا اور لوگ اب فلسطینی حصوں میں سرمایہ داری نہیں کرتے۔ 2020 میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق مذہبی گروہ اور زائرین مشرقی یروشلم اور بیت اللحم کی سیاحتی مارکیٹ کا دورہ کرتے ہیں۔ ان کا کہناہے کہ 1967 سے اب تک اسرائیل کے اس حصے میں نہ تو کوئی رہائشی سہولیات دی گئی ہیں جس کی بڑی وجہ اسرائیلی پابندیاں ہیں۔ اسی وجہ سے مشرقی یروشلم سیاحتی سنٹر بننے میں ناکام رہا ہے۔
شرقاوی کا کہنا تھا کہ اسرائیلی پالیسیاں اور سیاحتی اشتہاروں میں اکثر فلسطینیوں کی دکانوں، ان کی ہوٹلوں اور کاروبار کو چھوڑ دیا جاتا ہے۔ جس سے یروشلم میں موجود فلسیطنی تاجروں کو بہت سارے مالی مسائل کا سامنا ہے۔ اسرائیلی اشتہار عموام شہر کی مغربی اطراف کے دورے کی دعوت دیتے ہیں جہاں فلسطینی کمیونٹی کا وجود ہی نہیں ہے۔ اسرائیلی حکام کی جانب سے جاری کیے جانے والے نقشوں کے مطابق شہر کے سبھی شاپنگ مالز اور سٹی سینٹرز کو یروشلم کے مغربی حصے میں دکھایا جاتا ہے۔

کرونا وبا کے اثرات

راز جو کہ گزشتہ دس برس سے سیاحتی کام سے منسلک ہیں کا کہنا تھا کہ کرونا وبا کی وجہ سے فلسطینی علاقوں میں سیاحت کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ مارچ 2020 سے اسرائیل نے سیاحوں کو فلسیطنی علاقوں میں داخل ہونے سے منع کر دیا تھا۔ سیاحت سے منسلک بہت سارے لوگ جیسا کہ ہوٹل اور ریسٹورنٹس کے مالکان وغیرہ کرونا وبا سے شدید متاثر ہوئے ہیں خاص طور پر مشرقی یروشلم میں جہاں فلسطینیوں کی ایک بڑی تعداد کام کرتی ہے۔ امسال 20 نومبر کو اسرائیل نے ویکسین شدہ افراد کے لیے سخت پابندیوں میں سیاحت کی اجازت دی تھی۔ اب بھی بہت سارے فلسطینی معاشی نقصانات کو ریکور کرنے کے لیے سیاحت کی واپسی کے منتظر ہیں۔
جمعتہ المبارک، 26 نومبر 2021
شفقنا اردو
ur.shafaqna.com

The post اسرائیل نے یروشلم میں سیاحت کو محدود کر کے فلسطینی معیشت کو کس طرح نقصان پہنچایا: شفقنا بین الاقوامی appeared first on شفقنا اردو نیوز.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے