English Al Qamar Urdu جون 23, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

 اسلامی نظریاتی کونسل اور انٹرنیشنل ریسرچ کونسل کے زیر اہتمام  ورکشاپ کاانعقاد

 اسلامی نظریاتی کونسل اور انٹرنیشنل ریسرچ کونسل برائے مذہبی امور کے زیر اہتمام پانچ روزہ ورکشاپ اختتام پذیر،ورکشاپ سے چیرمین اسلامی نظریاتی کونسل ڈاکٹر قبلہ آیاز نے ترقی پذیر ممالک میں جمہوری اقدار کی اہمیت و ضرورت پر بات کی اور پاکستان افغانستان کے درمیان اعتماد سازی اور مضبوط روابط کیلئے مکالمے پر زور دیا ، ورکشاپ کے اختتامی سیشن سے پاکستان کے نمائندہ خصوصی برائے افغانستان ایمبیسڈر صادق خان نے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے ، کہ افغانستان کے طلبا کو مزید سہولتیں دے رہے ہیں ، عنقریب ون ونڈو آپریشن افغانستان کیلئے شروع کیا جائیگا ! انہوں نے کہا افغانستان کے عوام کے مسائل کے حل کیلئے حکومت پاکستان مسلسل کوششوں میں ہے ۔ افغان مہاجرین کی کمپنیاں پاکستان میں رجسٹرڈ ہورہے ہیں ، ان کو کاروبار کے مواقع مل رہے ییں اور بنک اکانٹ بھی کھل رہے ہیں۔ ورکشاپ کے شرکا نے پاکستان کے مختلف تھنک ٹینکس اور اداروں کا وزٹ بھی کیا ۔ جہاں ان کو خطے کے امن اور خوشحالی کیلئے پاکستانی کاوشوں سمیت پاکستان اور افغانستان میں تجارت کی بہتری ، موجودہ انسانی بحران میں پاکستان اور پڑوسی ملک کے کردار ، جمہوری اقدار ، اور سماجی تنظیموں کے کردار پر تفصیلی بات ہوگئی ۔ ورکشاپ سے سنٹر فار سٹڈی آف اسلام اینڈ ڈیموکریسی واشنگٹن اور تیونیسیا کے سربراہ ڈاکٹر رادوان مسمودی نے مسلم معاشروں میں رواداری ، برداشت، پرامن انتقال اقتدار اور جمہوریت کے مستقبل پر تفصیلی گفتگو کی ۔ انٹرنیشنل ریسرچ کونسل کے سربراہ محمد اسرار مدنی نے افغانستان میں امن کو پورے خطے کیلئے امن قرار دیتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں پرامن انتقال اقتدار ہمیشہ ایک مسئلہ رہا ہے ۔ جبکہ وہاں سماجی تنظیموں کا کردار مزید محدود ہوگیا ہے جس کیوجہ سے ریاست کو عوام کی رسائی، حقوق کے تحفظ اور باہمی رابطہ کاری میں مسائل کا سامنا ہے  ۔ انہوں نے کہا کہ جب تک ہم صحت مند مکالمہ نہیں کریں گے تو مفروضوں کی بنیاد پر ایک دوسرے کو نشانہ بنائیں گے ۔ انہوں اور دیگر مقررین نے پاک افغان تعلقات میں فیک نیوز اور پروپیگنڈا مہم پر بھی گفتگو کی۔ افغانستان کے شرکا نے پاکستان کے کاوشوں کو سراہا اور ویزہ پراسیس میں بہتری ، علاقائی تجارت کے فروغ اور سٹوڈنٹس سکالرشپ وغیرہ میں اضافے کا مطالبہ کردیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے