پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ایک معاہدے پر دستخط کر دیئے گئے ہیں جس کے تحت 3 ارب ڈالر بطور قرض فراہم کئے جائیں گے۔ اس معاہدے پر گورنر اسٹیٹ بینک ڈاکٹر رضا باقر اور سعودی فنڈ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سلطان بن عبدالرحمٰن المرشد نے دستخط کیے۔
اس معاہدے کے تحت سعودی فنڈ پاکستان کے مرکزی بینک میں 3 ارب ڈالر رکھوائے گا۔ اس رقم سے ناصرف پاکستان کے زرِمبادلہ کے ذخائر میں استحکام آئے گا بلکہ کورونا وائرس کی عالمی وبا کے دوران ملکی معیشت پر آنے والے منفی اثرات دور کرنے میں مدد ہوگی۔
مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ یہ معاہدہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان خصوصی اور مضبوط تعلقات کا عکاس ہے۔ اس سے دونوں برادر ممالک کے درمیان اقتصادی تعلقات مزید فروغ پائیں گے۔
1/2 Saudi Fund for Development signed the agreement today with #SBP representing the Govt of Pakistan for a $3bn deposit at #SBP that will become part of SBP’s Foreign Exchange Reserves. PR: https://t.co/YvQ9VXPq0x@saudifund_dev @AhmedAlKhateeb @saalmarshad #ProsperTogether
— SBP (@StateBank_Pak) November 29, 2021
گذشتہ ماہ وزیراعظم عمران خان کے دورہ سعودی عرب کے بعد پاکستان کیلئے معاشی پیکج کا اعلان کیا تھا۔ وفاقی کابینہ نے بھی حال ہی میں سعودی عرب سے 3 ارب ڈالر قرض کی منظوری دی تھی۔
واضح رہے کہ گذشتہ ہفتے جاوری اعدادوشمار میں سٹیٹ بینک کے ذخائر میں 69.1 کروڑ ڈالر کی کمی ظاہر کی گئی تھی۔ سٹیٹ بینک کے پاس 16.3ارب ڈالر کے ذخائر رہ گئے ہیں جو 3 ماہ کے درآمدات کے لئے ناکافی ہے۔ معاشی ماہرین کے مطابق درآمدی ادائیگیوں کے دبائو کی وجہ سے زرمبادلہ کے ذخائر گررہے ہیں۔
ادھر غیر ملکی سرمایہ کاری اور اوورسیز پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانیوالی ترسیلات زر میں کمی کی وجہ سے بھی پاکستانی روپے پر دبائو بڑھ چکا ہے۔ تاہم سعودی عرب کیساتھ معاہدے کے بعد امید کی جا رہی ہے کہ اس سے زرمبادلہ کے ذخائر مستحکم اور روپے پر دبائو کم ہو جائے گا۔
