بغداد (انٹرنیشنل ڈیسک) شمالی عراق کے ایک گاؤں قرہ سالم کے قریب داعش کے عسکریت پسندوں کے ساتھ جھڑپوں میں 5 افراد ہلاک ہوگئے، جن میں 4 پیش مرگہ فوجی اور ایک شہری شامل ہیں، جب کہ 6 دیگر زخمی ہوئے۔ پیش مرگہ نے ایک پریس بیان میں کہا ہے کہ داعش کے عسکریت پسندوں نے پیش مرگہ فورسز کی 126ویں بریگیڈ کے ہیڈ کواٹر پر حملہ کیا جس سے جانی نقصان ہو۔تاہم اس میں مرنے والوں یا زخمیوں کی تعداد کا ذکر نہیں کیا گیا۔ اس کے علاوہ پیش مرگہ فورسز کے ذرائع نے تصدیق کی کہ جھڑپوں کے بعد داعش کے جنگجو علاقے ے نکل گئے۔پیش مرگہ فورسز کے ایک کمانڈر نے کہا کہ داعش تنظیم کے جنگجو ہماری پوزیشنوں پر رات کے حملوں میں مارو اور بھاگو کی حکمت عملی استعمال کرتے ہیں۔ وہ زیادہ دیر تک زمین پر جمے رہنے سے گریز کرتے ہیں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ علاقے میں مزید کمک بھیجی جا رہی ہے، تاکہ داعش کے مزید حملوں کو روکاجاسکے۔ایک عراقی فوجی ذرائع نے انکشاف کیا کہ عراقی سیکورٹی فورسز کے یونٹ پیش مرگہ کی حمایت کے لیے جھڑپ کے مقام پر پہنچ گئے۔ اس سے قبل اتوار کو سیکورٹی ذرائع نے رائٹرز کو بتایا تھا کہ داعش سے وابستہ جنگجوؤں نے ہفتے کے روز ایک حملے کے بعد شمالی عراق میں لہیبان گاؤں کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔تاہم عراقی حکام کی جانب سے اس کی تصدیق نہیں کی گئی۔
