English Al Qamar Urdu جون 24, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

یورپ 30 سال کی بلند ترین افراط زر میں کیسے پھنسا؟ شفقنا معیشت

القمر
یورو زون میں ماہ نومبر میں  سالانہ  افراط زر  کی شرح 4٫9 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے جو کہ گزشتہ 25 برسوں کی بلند ترین سطح ہے۔ یورو  سٹیٹ   نے یورو زون کی ماہ نومبر کی سالانہ افراط زر رپورٹ جاری کی ہے، جس کے مطابق  یورو زون میں ماہ  اکتوبر میں 4٫1 جبکہ ماہ نومبر میں سالانہ شرحِ افراط زر  4٫9 فیصد رہی ہے۔ یورو زون میں افراط زر کے نمایاں عناصر پر نظر ڈالیں تو، سب سے زیادہ سالانہ افراط زر 27.4 فیصد کے ساتھ  شعبہ توانائی میں  ریکارڈ کیا گیا ہے۔ جس کے بعد  2.7 فیصد کے ساتھ سروسز، 2.4 فیصد کے ساتھ نان انرجی انڈسٹریل پروڈکٹس اور 2.2 فیصد کے ساتھ فوڈ، الکحل اور تمباکو کی مصنوعات  کا نمبر آتا ہے۔نومبر کے مہینے میں مہنگائی کی شرح جرمنی میں 6 فیصد، فرانس میں 3.4 فیصد، اسپین میں 5.6 فیصد، اٹلی میں 4 فیصد، نیدرلینڈز میں 5.6 فیصد، بیلجیئم میں 7.1 فیصد، لاٹویا میں 7.4 فیصد اور لیتھوانیا میں 9.3 فیصد کی سطح  تک رہی ہے۔
افراط زر کی یہ شرح 1997 سے اب تک بلند ترین سطح ہے جب یوروپین یونین نے 1999 میں یورو کا آغاز کرنے کی تیاری شروع کی۔ خاص طور پر یہ شرح جرمنی میں 29 سال کی بلند ترین سطح پر ہے جو کہ تاریخی طور پر بہترین معیشتوں میں سے ایک ہے۔ ایندھن کی بلند قیمتیں افراط زر میں اضافے کی ایک بڑی وجہ ہیں جو کہ یورپ کے بہت سارے حصے میں معاشرتی کشیدگی کا سبب بھی بن رہی ہے۔ یورپ کے ایک مرکزی بینک کے اعداد وشمار کے مطابق اس وقت لیتھوانیا میں افراط زر کی شرح سب سے بلند یعنی 3۔9 فیصد ہے جس کے بعد ایسٹونیا ہے جس میں شرح 4۔8 فیصد ہے اور سب سے کم افراط زر کی شرح 4۔3 فیصد ہے جو کہ فرانس میں ہے۔
یہ اعداد یقینی طور پریشان کن ہیں جس کے باعث یورپ میں مختلف ممالک کی جانب سے مختلف اقدامات کے خلاف پرتشدد مظاہروں کو سلسلہ شروع ہوگیا ہے جبکہ کرونا وائرس کے نئے ویرینت اومیکرون کا رستہ روکنے کے لیے مختلف ممالک کے نئے اقدامات کے خلاف بھی ان ممالک کی عوام احتجاج کر رہی ہے۔ یہ احتجاج جن کی واضح سماجی اور معاشی وجوہات ہیں مزید بھڑک سکتے ہیں اگر حکومتیں یورپی شہریوں کی قوت خرید پر مزید سختی کرتی ہیں۔ یورپی ماہرین معیشت کا کہنا ہے کہ آنے والے ماہ میں افراط زر کی شرح مزید بڑھے گی۔ فرانسیسی معیشت دان ایرک ڈار نے ایک فرانسیسی خبر رساں ادارے کو بتایا کہ یہ بلند افراط زر کی شرح عارضی یا وقتی نہیں ہے بلکہ یہ ایک طویل مدتی عمل ہے۔
فرانسیسی ماہر معیشت میتھیو بلانک نے اس اضافے کو ایندھن کی قیمتوں میں اضافے سے منسوب کیا ہے۔ انہوں نے وضاحت کی فرانس میں قیمتوں میں آدھے سے زیادہ اضافہ ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے ہے اور یہ متوقع وقت سے قبل ہی اپنی بلند سطح تک پہنچ گئی ہے۔ یوروپین یونین کے اعداد و شمار دفتر کے مطابق افراط زر کی شرح میں اضافہ درحقیت ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے ہے ۔

احتجاجوں کا سلسلہ

تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ بہت سارے یورپی ممالک گزشتہ ہفتوں سے جاری احتجاجوں میں نئی شدت دیکھیں جس کی بڑی وجہ ان ممالک کی جانب سے اومیکرون ویرینٹ کے لیے نئے احتیاطی اقدامات ہیں۔ فرانس کی مثال لے لیں جس کے جزیروں گواڈیلوپ اور مارٹینک میں ہیلتھ پاسپورٹ کی پابندیوں کے خلاف لاکھوں مظاہرین سڑکوں پر نکل آئے ۔ نئے اقدامات کے تحت ہیلتھ کئیر ورکرز کے لیے لازم ہے کہ وہ ہیلتھ پاس یا ویکسین پاسپورٹ ساتھ رکھیں وگرنہ انہیں عوامی عمارات بشمول ریستورانوں، کیفوں اور لائبریریوں میں داخل ہونے کی اجازت نہیں ہوگی۔ فرانسیسی حکومت کے خلاف گواڈیلوپ میں عوامی بداعتمادی میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے کیونکہ وہ پہلے ہی کیلے کے پودوں پر کیڑے مار دوا کلورڈیکون کو سرکاری طور پر 90 فیصد بالغ آبادی میں پراسٹیٹ کینسر کا سبب بتایا گیا ہے۔
جرمنی میں ورکرز یونینز تنخواہوں میں اضافے کا مطالبہ کر رہی ہیں کیونکہ بڑھتی ہوئی افراط زر کی وجہ سے ان کی قوت خرید میں کمی آرہی ہے۔ جس کا جواب جرمن حکومت نے تنخواہوں میں 9۔0 فیصد معمولی اضافہ کر کے دیا ہے جو یقینی طور پر اس مسئلے کا حل نہیں ہے ۔ یقینی طور پر قوت خرید میں کمی جس کی بڑی وجہ افراط زر ہے یقینی طورپر احتجاج کرنے والوں کو تنخواہوں میں مزید اضافے کے مطالبے پر مجبور کرے گی۔ پس اس سے یہ امکان بڑھ جاتا ہے کہ دنیا بھر اور خاص طورپر یورپ میں احتجاجوں کا ایک نیا سلسلہ شروع ہوسکتا ہے۔ اسی پس منظر میں کارنیج انسٹی ٹیوٹ کی ایک ریسرچ میں یہ پیشن گوئی کی گئی ہے کہ وبا کی وجہ سے تکلیف دہ معاشی اثرات اور گورننس میں موجود عدم توازن یقینی طور پر عوام غصے کا سبب بنے گا جس کا اظہار بڑی تعداد میں مظاہروں کی شکل میں ہوگا۔
منگل، 7 دسمبر 2021
شفقنااردو
ur.shafaqna.com

The post یورپ 30 سال کی بلند ترین افراط زر میں کیسے پھنسا؟ شفقنا معیشت appeared first on شفقنا اردو نیوز.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے