وفاقی حکومت کے قرضے 40 ہزار ارب روپے کی نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گئے ہیں۔ پی ٹی آئی حکومت نے اخراجات پورے کرنے کے لیے اوسطا ہر روز 13 ارب 13 کروڑ روپے قرض لیا۔ 39 ماہ میں وفاقی حکومت کے قرضوں میں مجموعی طور پر 15 ہزار 589 ارب روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
اسٹیٹ بینک کے مطابق وفاقی حکومت کے قرضوں کا مجموعی حجم اکتوبر کے اختتام پر 40 ہزار 279 ارب 10 کروڑ روپے کی ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا 39 ماہ میں حکومتی قرضوں میں 63 فیصد اضافہ رکارڈ کیا گیا۔ مجموعی قرضوں میں 15 ہزار 589 ارب روپے کا اضافہ ہو گیا۔
جولائی 2018 کے اختتام پر وفاقی حکومت کے قرضے 24 ہزار 690 ارب روپے تھے۔
وفاقی حکومت نے 39 ماہ کے دوران ملکی ذرائع سے 10 ہزار 7 ارب روپے کے نئے قرضے لیے جس سے ملکی قرضوں کا حجم 26 ہزار 468 ارب روپے ہو گیا۔ بیرونی قرضے اس دوران 5 ہزار 582 ارب روپے کے اضافے سے 8 ہزار 229 ارب روپے تک پہنچ گئے تاہم وفاقی حکومت کے بیرونی قرضوں میں آئی ایم ایف سے لیا گیا قرضہ اور اسٹیٹ بینک کے پاس ڈپازٹس میں دوست ملکوں سے ادھار لیے ڈالر شامل نہیں۔
پاکستان کے قرضے 40 ہزار ارب روپے ہوگئے روزانہ 13 ارب 13 کروڑ ادھار لیا گیا
القمر
