English Al Qamar Urdu جون 27, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

کراچی کے 10 لاکھ شہریوں کے لیے صاف پانی کا تاریخی معاہدہ

القمر

سندھ حکومت اور ورلڈ بینک گروپ کے رکن IFC نے منگل کو وزیراعلیٰ ہاؤس میں ایک تاریخی معاہدے پر دستخط کیے جس سے صوبائی حکومت کو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے منصوبے کی تشکیل میں مدد ملے گی جس سے کراچی کے تقریباً 10 لاکھ لوگوں کو پینے کا صاف پانی میسر ہوگا۔ معاہدے پر دستخط کی تقریب وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت منعقد ہوئی۔ تقریب میں سینئر نائب صدر آپریشنز آئی ایف سی مس اسٹیفنی وان فریڈبرگ، ریجنل نائب صدر مس ہیلا چیخروہو، کنٹری ہیڈ ندیم اے صدیقی، ریجنل ہیڈ مس شبانہ خاور، منیر فیروزی، ذیشان احمد شیخ، مرزا خرم بیگ، محمد بھٹی جبکہ حکومت سندھ کی جانب سے وزیر بلدیات ناصر شاہ، ایڈمنسٹریٹر کے ایم سی مرتضیٰ وہاب، وزیراعلیٰ سندھ کے معاون خصوصی قاسم نوید، وزیراعلیٰ سندھ کے پرنسپل سیکرٹری ساجد جمال ابڑو، سیکرٹری لوکل گورنمنٹ نجم شاہ، سیکرٹری خزانہ حسن نقوی، چیف اکنامسٹ پی اینڈ ، ایم ڈی واٹر بورڈ اسد اللہ ، پی ڈی کے ڈبلیو ایس ایس آئی پی صلاح الدین اور ڈی جی پی پی پی یونٹ خالد شیخ نے شرکت کی۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ 16 ملین سے زیادہ کی آبادی کے ساتھ، کراچی، سندھ کا دارالحکومت، پاکستان کا سب سے بڑا شہر، اقتصادی حب، اور اہم بندرگاہ ہے اور اس کے لیے پینے کے پانی کی فراہمی کے حوالے سے بہتر اقدامات کیے جارہے ہیں. انہوں نے مزید کہا کہ معاہدے کے تحت عالمی بینک گروپ کا رکن IFC کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ (KWSB) شہر کو پانی کی فراہمی بڑھانے ، نئے انفراسٹرکچر کی تعمیر کے لیے منصوبے کی ساخت اور ٹینڈرنگ کے لیے مشورہ دے گا۔ مراد علی شاہ نے کہا کہ اس ایک پرائیویٹ کمپنی کو ایگزیکیوٹ کیا جائے گاجو کہ پانی کی صفائی کی سہولیات اور جسے بلک واٹر کنوینس سسٹم کہا جاتا ہے، شامل ہوں گے اور مزید کہا کہ یہ سسٹم کینجھر جھیل سے روزانہ 65 ملین گیلن پانی فراہم کرے گا جو شہر سے 140 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ بلک واٹر سپلائی سسٹم کو تیار کرنے اور آپریٹ کرنے کے لئے نجی شعبے کی مدد سے زیادہ سے زیادہ لوگوں کو پانی کی رسائی ممکن ہوگی، جس کی انہیں ضرورت ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ یہ منصوبہ مستقبل کے گرین فیلڈ واٹر انفراسٹرکچر کے منصوبوں کے لیے فریم ورک فراہم کرے گا۔ واضح رہے کہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے مطابق پاکستان پانی کی شدید قلت کے حوالے سے عالمی سطح پر تیسرے نمبر پر ہے۔ آج کے معاہدے پر دستخطی تقریب ،گزشتہ سال پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت IFC اور KWSB کے درمیان ایک مشاورتی معاہدےکی ایک اور تاریخ کو رقم کر رہی ہے جس میں 100 MGD کینال، ایک واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ اور ایک پمپنگ اسٹیشن کی بحالی اور دیکھ بھال شامل ہے۔ مجوزہ منصوبہ پاکستان کا پہلا گرین فیلڈ واٹر سپلائی ہے جو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت کیا گیا۔اس موقع پر آئی ایف سی کی سینئر نائب صدر محترمہ سٹیفنی وان فریڈ برگ نے کہا کہ کراچی میں پانی کی قلت نے رہائشیوں سمیت برسوں سے کاروبار کو بھی متاثر کیا ہے اس لیے انھیں بہتر انفراسٹرکچر کی فراہمی لازمی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس منصوبے نے حکومتوں کو انفراسٹرکچر کو جدید بنانے، اقتصادی ترقی کو تیز کرنے اور روزمرہ کے لوگوں کی زندگیوں کو بہتر بنانے میں معاونت کیلئے نجی شعبے کو مضبوط بنایا ہے۔ یہ منصوبہ پاکستان میں ورلڈ بینک گروپ کی حکمت عملی کا حصہ ہے جس میں نجی شعبے کی ترقی اور عوامی خدمات کی فراہمی میں بہتری کو تیز کرنا ہے۔ یہ عالمی بینک کے زیر اہتمام 1.6 بلین ڈالر کے کراچی واٹر اینڈ سیوریج سروسز انویسٹمنٹ پروجیکٹ کو بھی مکمل کرتا ہے جس کا مقصد KWSB کی کارکردگی اور پائیداری کو بہتر بنانا ہے۔ سندھ حکومت کی جانب سے وزیراعلیٰ سندھ اور دیگر کی موجودگی میں آئی ایف سی کی ریجنل نائب صدر محترمہ ہیلا چیکروھو اور ایم ڈی واٹر بورڈ اسد اللہ خان نے پبلک پرائیویٹ پارنٹرشپ ایڈوائزری ایگریمنٹ 65 ایم جی ڈی کراچی بلک واٹر سپلائی منصوبے کے معاہدے پر دستخط کیے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے