English Al Qamar Urdu جون 25, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

فلسطینیوں کا خوف، اسرائیل نے 65کلومیٹر طویل آہنی دیوار کھڑی کردی

غزہ میں پھنسے فلسطینیوں کے راستے مسدود کرنے کیلیے اسرائیل نے ایک اور اقدام کرتے ہوئے غزہ کی طرف زیرزمین جدید ٹیکنالوجی سے لیس آہنی دیوار مکمل کرلی ہے۔ جبکہ غزہ کا دوسرا راستہ مصر کی اسرائیل نواز حکومت نے پہلے ہی بند کررکھا ہے .

 رپورٹ کے مطابق اسرائیل نے کہا کہ 2014 میں فوجیوں کو پیچھے دھکیلنے کے لیے حماس کی جانب سے سرنگ کے استعمال کے بعد جوابی اقدامات کے تحت جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ آہنی دیوار کھڑی کی گئی ہے۔

اسرائیلی وزیردفاع بینی گینٹز نے کہا کہ بیریئر ایک جدید ٹیکنالوجی کا منصوبہ ہے جس کا مقصد حماس پر برتری حاصل کرنا ہے جس نے ایسا کرنے کی کوشش کی تھی۔

وزارت دفاع نے کہا کہ بیریئر میں سیکڑوں کیمرے، ریڈار اور دیگر سینسر جڑے ہوئے ہیں اور ساڑھے تین سال کے عرصے میں 65 کلومیٹر طویل دیوار کی تعمیر مکمل ہوئی جس میں ایک لاکھ 40 ہزار ٹن لوہا اور اسٹیل استعمال کیا گیا۔

منصوبے کے حوالے سے کہا گیا کہ اس میں اسمارٹ فینس 6 میٹر سے زیادہ اونچا ہے اور اس میں میری ٹائم بیریئر میں سمندر سے داخل ہونے کی کوشش ناکام بنانے اور ریموٹ کنٹرول ہتھیاروں کے نظام کو ناکام بنانے کی صلاحیت ہے۔

دوسری جانب غزہ کی مصر کے ساتھ 14 کلومیٹر طویل سرحد ہے جہاں سے فلسطینیوں کے گزرنے کی اجازت نہیں ہے اور سیکیورٹی خدشات کے باعث بدستور بند ہے۔مصر نے اپنی طرف سے اسمگلنگ کے لیے استعمال ہونے والے سرنگ کو تباہ کرنے کا دعویٰ کیا تھا اور حماس نے اپنی گشت میں اضافہ کردیا تھا۔

 اسرائیل نے 2007 سے غزہ کا محاصرہ کیا ہوا جب غزہ میں حماس نے انتخابات میں کامیابی کے بعد حکومت بنائی تھی۔

اسرائیلی محاصرے اور مصر کی جانب سے سرحد بند کرنے سے غزہ کے شہریوں کو غذائی اجناس سمیت دیگر اشیائے ضروریہ کی قلت کا سامنا کرنا پڑتا ہے جہاں 20 لاکھ سے زیادہ آبادی مقیم ہے۔

حماس اور اسرائیل کے درمیان جھڑپیں بھی ہوتی رہی ہیں اور اسرائیل نے فضائی بمباری کے ذریعے بے دردی سے فلسطینیوں کا قتل عام بھی کیا تھا۔

رواں برس مئی میں بھی فریقین کے درمیان جھڑپیں ہوئی تھیں جبکہ اسرائیلی فورسز نے بمباری کی تھی جس کے جواب میں حماس نےکئی راکٹ داغے تھے۔

اسرائیل کی بمباری 11 روز جاری رہی تھی اور اس دوران غزہ میں 240 سے زائد افراد جاں بحق ہوئے تھے جبکہ اسرائیل نے 12 شہریوں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا تھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے