کراچی ( اسٹاف رپورٹر)دنیا بھر میں پھیلے کورونا کا خطرناک ویرینٹ اومی کرون کا پہلا مشتبہ کیس پاکستان میں بھی رپورٹ ہوا ہے۔ جس کے بعد متعدی امراض کے ماہرین نے اومی کرون ویرینٹ کے کراچی میں پھیلنے کا خدشہ ظاہر کر دیا، جبکہ ملک میں کورونا وائرس کے مزید 10 مریض ہلاک ہوگئے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان میں کورونا وائرس کے اومی کرون ویرینٹ کا پہلا مشتبہ کیس سامنے آگیا ہے،محکمہ صحت سندھ کے مطابق اومی کرون کا کیس کراچی کے ایک نجی اسپتال میں رپورٹ ہوا،حکام کا کہنا ہے کہ متاثرہ 65 سالہ خاتون کورونا پازیٹو ہیں اور
انہیں نجی اسپتال سے گھر منتقل کر دیا گیا ہے۔حکام محکمہ صحت سندھ کے مطابق متاثرہ خاتون کی ٹریول ہسٹری معلوم کی جا رہی ہے، خاتون کی کانٹیکٹ ٹریسنگ کی بھی کوشش کی جا رہی ہے۔ضلع شرقی کی رہائشی مذکورہ خاتون نے کورونا وائرس کی ویکسین نہیں لگوائی تھی جو نجی اسپتال سے صحت یاب ہو کر گھر جا چکی ہیں۔خاتون کے شوہر سمیت گھرانے کے 2 افراد بھی کورونا وائرس سے متاثر ہیں۔ محکمہ صحت سندھ کی جانب سے اومی کرون کا کیس سامنے آنے کے بعد ضلع شرقی میں مائیکرو اسمارٹ لاک ڈاؤن لگانے کی سفارش کی گئی ہے۔ وزیرصحت سندھ ڈاکٹر عذرا پیچوہو نے کہا ہے کہ مذکورہ مریضہ میں وائرس کی علامات سے لگ رہا ہے کہ یہ اومی کرون ہے۔اومی کرون وائرس کی صورتِ حال کے حوالے سے جاری کیے گئے وڈیو بیان میں ڈاکٹر عذرا پیچوہو نے کہا ہے کہ کراچی میں اومی کرون وائرس کے مشتبہ کیس کی جینومک اسٹڈی جاری ہے جس کے نتائج آنے میں 2 ہفتے کا وقت لگ سکتا ہے، وائرس کی کسی بھی قسم سے بچنے کا بہترین حل ویکسی نیشن ہے۔علاوہ ازیں کورونا وائرس سے مزید 10 افراد جاں بحق ہوگئے، جس کے بعد اموات کی تعداد 28 ہزار 803 ہوگئی۔ نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کے مطابق 24 گھنٹوں کے دوران 350 نئے کیسز رپورٹ ہوئے ہیںجس کے بعد پاکستان میں کورونا کے تصدیق شدہ کیسز کی تعداد 12 لاکھ 88 ہزار 53 ہوگئی ہے۔ کورونا کے زیر علاج 771 مریضوں کی حالت تشویش ناک ہے۔
