
کراچی(اسٹاف رپورٹر)امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے کارکنان کو ہدایت کی ہے کہ بلدیاتی انتخابات کی بھرپور تیاری شروع کریں اور19دسمبر کو ہونے والے ’’کراچی بچائو مارچ ‘‘ کویادگار بنانے کے لیے اپنی تمام تر توانائیاں اور صلاحیتیں بروئے کار لائیں ،رائے عامہ کو ہموار کرنے کے لیے عوام الناس سے بھرپور رابطے کریں ، مسائل کے حل کے لیے عوام جماعت اسلامی سے جس بڑے پیمانے پر رابطہ کررہے ہیں اس سے دعوتی کام کے لیے بھی بڑے مواقع پیدا ہورہے ہیں ۔ اہل کراچی کے حقوق اور مسائل کے حل کے لیے بڑی جدوجہد اور بھرپور مزاحمتی قوت و تحریک کی ضرورت ہے جس میں ایثار و قربانی سمیت ہر قسم کے مشکل اور کٹھن حالات کا سامنا کرنے کے لیے کارکنان خود کو تیار کریں ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے جماعت اسلامی کے تحت شہر بھر میں ہونے والے ہفتہ وار اجتماعات کارکنان سے آن لائن خطاب کرتے ہوئے کیا ۔انہوں نے مزید کہا کہ جماعت اسلامی نے کے الیکٹرک کے خلاف عوام کی ترجمانی کی اور اس جدوجہد میں پولیس تشدد اور گرفتاریوں کا سامنا بھی کیا لیکن اپنے موقف سے پیچھے نہیں ہٹے، پیپلز پارٹی کی حکومت کی طرف سے کراچی پر قبضے کی کوششیں اور کالے قوانین کے ذریعے اہل کراچی کے حقوق کو غصب کرنے کے خلاف آخری حد تک جائیں گے ،کراچی کے عوام کو ہر گز تنہا نہیں چھوڑیں گے ،آج واحد جماعت اسلامی ہے جو کراچی کو اون کرتی ہے اور شہر کے دیرینہ اور حقیقی مسائل کے حل کے لیے عوام کی ترجمان بنی ہوئی ہے ،کیونکہ ایک طرف جہاں پیپلز پارٹی کراچی دشمن سرگرمیوں اوراقدامات کے ذریعے عوام کا حق مار رہی ہے وہیں دوسری طرف پی ٹی آئی اور ایم کیو ایم بھی اہل کراچی کی حق تلفی میں برابر کی شریک ہیں ،جعلی مردم شماری کی منظوری اور کوٹا سسٹم میں غیر معینہ مدت تک اضافے کا فیصلہ ان دونوں جماعتوں نے مل کر کیا ہے ،اگر حکومت میں آتے ہی یہ جماعتیں مردم شماری پر دوٹوک موقف اختیار کرتے ہوئے فیصلہ کرلیتیں کہ اسے درست کیا جائے گا اور 5فیصد بلاک کھول دیے جاتے اور مردم شماری میں کراچی کی اصل آبادی شمار کرلی جاتی تو کراچی کے ساتھ ظلم اور نا انصافیوں کا سلسلہ جاری نہ رہتا ،ان دونوں حکمران پارٹیوں سمیت پیپلز پارٹی بھی کے الیکٹرک کو سپورٹ کرتی ہے اور کے الیکٹرک کو ایک مافیا بنانے میں یہ تینوں پارٹیاں شریک جرم ہیں اور نواز لیگ بھی اس میں شامل ہے ۔حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ ہمارا اور ایم کیو ایم کابلدیاتی بل کے حوالے سے موقف یکساں ہے لیکن وہ یہ جواب بھی دے کہ 2013ء میں بلدیاتی اداروں کے اختیارات میں کمی تو خود اس نے کرائی تھی ،اورجب پرویز مشرف کے دور میں ان کی حکومت تھی ،گورنر ایم کیوایم کا تھا ،نیچے سے اوپر تک ہر سطح پر ایم کیوایم موجود تھی تب کراچی صوبے کی بات کیوں نہیں کی ۔حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ اگرکراچی کی مردم شماری درست ہوجائے تو سندھ اسمبلی میں کراچی کی نشستیں 65اور قومی اسمبلی میں 35تک ہوجائیں گی اور اہل کراچی کی حقیقی نمائندگی سامنے آجائے گی ،حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ صوبوں کے حوالے سے جماعت اسلامی کا موقف واضح ہے کہ انتظامی طور پر پورے ملک میں صوبے بننے چاہئیںاور ظاہر ہے کہ اس عمل کو آئین اور قانون کے تحت ہی کیا جاسکتا ہے اور اس طریقہ کار کے بارے میں سب کو معلوم ہے کہ کیا کیا جانا ضروری ہے، ایم کیو ایم ایک بار پھر عوام کو بے وقوف بنانے کی کوشش کررہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہم نے بلدیاتی ترمیمی بل کے خلاف بھرپور جدوجہد اور مزاحمت کا فیصلہ کیا ہے، 19دسمبر کو’’ کراچی بچائومارچ ‘‘اسی سلسلے کی کڑی ہے،وزیر اعلیٰ ہائوس ،سند ھ اسمبلی پر دھرنا اور گھیرائو بھی ہمارے آپشنز میں شامل ہیں ،اس کے ساتھ عدالت سے بھی رجوع کیا جائے گا اور کراچی کے 3 کروڑ سے زاید عوام کے آئینی و قانونی اورجائز حق کے لیے ہرممکن طریقے اور آئینی ،قانونی و جمہوری جدوجہد کے راستے اختیار کریں گے ،اس تحریک اور جدوجہدکے دوران دعوت کے پھیلائو کے مواقع بھی میسر آئیں گے اور ظلم وزیادتیوں کے خلاف مظلوموں اور محروموں کے لیے نکلنا اور آواز اٹھا نا دین کا بھی تقاضاہے ۔
