برسلز (انٹرنیشنل ڈیسک) یورپی ممالک میں حکومتوں نے کووڈ 19 کی نئی لہر کے تناظر میں پابندیوں کا نفاذ کر دیا ہے۔ ان پابندیوں کے خلاف مظاہرے بھی بڑھ گئے ہیں۔ ان میں شریک مظاہرین تمام ہی طبقاتِ زندگی کے ہیں۔ پابندیوں سے تمام یورپی شہری خوش نہیں ہیں۔ ہزاروں افراد مختلف یورپی شہروں میں مظاہروں میں شریک ہوچکے ہیں۔ جرمنی اور اس کے ہمسایہ ممالک میں لوگ ان حکومتی پابندیوں کے اقدامات پر برہم اور خفا ہیں۔ ویانا کی پولیس کے مطابق پابندیوں کے خلاف ایک احتجاج میں 40ہزار کے قریب لوگ شریک ہوئے۔ کئی جگہوں پر مشتعل مظاہرین اور پولیس میں جھڑپیں بھی ہوئیں۔ گزشتہ ویک اینڈ پر برسلز میں قریب 8ہزار لوگ پابندیوں کے خلاف مظاہرے میں شریک ہوئے۔ اس شہر میں بھی پولیس کے ساتھ مظاہرین کی جھڑپیں ہوئیں۔ لکسمبرگ میں مظاہرین نے کرسمس مارکیٹ پر دھاوا بول دیا کیوں کہ اس میں صرف ویکسین شدہ افراد داخل ہو سکتے تھے۔ نیدرلینڈز کے مختلف شہروں میں بھی مظاہرے ہوئے۔ جرمنی کے مختلف علاقوں میں صدائے احتجاج بھی بلند کی گئی۔ جرمن ریاست سیکسنی میں مجمع پر پابندی عائد ہے۔ ایسا تاثر ہے کہ لوگوں کے مظاہرے کی منصوبہ بندی انتہائی دائیں بازو کے گروپوں نے کی۔ گزشتہ جمعہ سیکسنی میں ٹارچ بردار مظاہرین ریاستی وزیر صحت کے گھر کے باہر جمع ہوئے تھے۔ کووڈ مظاہروں میں مختلف طبقوں سے تعلق رکھنے اور سوچ کے افراد شریک رہے۔ ان میں سیاسی بے چینی کے حامل افراد کے ساتھ ریاست مخالفین بھی شامل تھے۔ اسی طرح ویکسین مخالفین بھی مظاہروں میں شریک تھے۔ جرمن سرکاری ٹیلی وڑن زیڈ ڈی ایف کے پروگرام میں بلجیم کے شہر لیوون میں قائم کیتھولک یونیورسٹی کے پولیٹیکل سائنس کے پروفیسر مارک ہوگہے کا کہنا ہے کہ کووڈ مظاہروں میں مختلف سماجی گروپوں کے افراد شامل ہیں اور ان کے اپنے اپنے نظریات ہیں۔ جرمنی میں بھی صورت حال کم و بیش ایسی ہے۔ ایک ماہر عمرانیات ژوہانس کیس کا خیال ہے کہ یہ مایوس افراد کے گروپ ہیں جو کووڈ 19کی حکومتی پالیسیوں پر شاکی ہیں۔
