English Al Qamar Urdu جون 24, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی میں جاری چودہویں عالمی اردو کانفرنس

آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی میں جاری چودہویں عالمی اردو کانفرنس کے تیسرے دن یادرفتگاں کے عنوان سے منعقد پروگرام میں امجد طفیل نے رشید امجد پر،

اصغر ندیم سید نے مسعود اشعر ، شاہدہ حسن نے نصیر ترابی ، سلمان صدیقی نے جازب قریشی اور اقبال خورشید نے مشرف عالم ذوقی کی ادبی خدمات پر اظہارِ خیال کیا جبکہ نظامت کے فرائض رضوان زیدی نے انجام دیئے، امجد طفیل نے کہا کہ اردو افسانے میں رشید امجد کی خدمات بہت نمایاں ہیں جس طرح انہوں نے اردو افسانے پر کام کیا ہے وہ اردو منظر نامے میں تادیر شامل رہےنگے،

انہوں نے کہا کہ رشید امجد بہت محبت کرنے والے انسان تھے اور جن سے بھی ان کی دوستی ہوجایا کرتی تھی وہ اس کا بہت خیال رکھتے تھے ، رشید امجد نے اپنی ذات کو خود بڑا کیا وہ ایک سیلف میڈ انسان تھے مگر ان میں غرور نام کی کوئی چیز نہیں تھی ، اصغر ندیم سید نے کہا کہ مسعود اشعر ایک بڑے افسانہ نگار تھے انہوں نے 1965-66 میں اپنا پہلا افسانہ لکھا حالانکہ وہ لکھنے کا کام بہت پہلے سے کر رہے تھے مگر وہ صرف صحافت کی حد تک محدود تھا،

انہوں نے کہا کہ مسعود اشعر کو لوگ ایک افسانہ نگار کی حیثیت سے جانتے ہیں مگر ان کی ایک خوبی یہ بھی تھی کہ وہ افسانہ لکھنے سے پہلے بھی شعبہ صحافت سے وابستہ تھے اور اخبار کے ایڈیٹر رہے ،انہوںنے کہا کہ 1973میں ان کے افسانوں کو پہلا مجموعہ آنکھوں پر دونوں ہاتھ شائع ہوا بعد ازاں اس کے بعد بھی افسانوں کے مجموعے شائع ہوئے وہ بلخصوص پاکستان میں ہونے والی تبدیلیوں پر افسانے لکھتے تھے ان کا کردار محض ایک افسانہ لکھنے والا ہی کا نہیں تھا بلکہ وہ اپنے اقدار کو فروغ دینے کے بھی پابند تھے، شاہدہ حسن نے کہا کہ نصیر ترابی کی ترجیحات میں زبان کا معیار اور اس کی درستگی بہت اہم تھی، ان کا خیال تھا کہ زبان کا تخلیقی استعمال ہونا چاہیے اور زبان کو سیکھنا چاہیے ،انہوں نے کہا کہ نصیر ترابی صاحب سے پہلی ملاقات ناظم آباد کے علاقے رضویہ سوسائٹی کے ایک گھر میں ہوئی جہاں دیگر ادیب و شعرابھی آیا کرتے تھے اوروہاں شعر و ادب پر گفتگو ہوا کرتی تھی،

انہوں نے کہا کہ جب نصیر ترابی کی کتاب نقشِ فریادی شائع ہوئی تو وہ مجھے پیش کرنے میرے گھر آئے اور اس کتاب پر بہت ہی خوبصورت جملے تحریر کیے، سلمان صدیقی نے کہا کہ جاذب قریشی نے بچپن ہی سے بہت محنت کی تھی یہاں تک کہ انہوں نے لوہے کی بھٹی میں بھی کام کیا ،جاذب قریشی کی شاعری میں ایک منفرد ذائقہ تھا وہ روایت سے ہٹ کر بات کہنے والے شاعر تھے، وقت کے ساتھ ساتھ ان کی اہمیت کو سمجھا گیا اور آج کئی نئے شعراجاذب قریشی کے انداز و خیالات کو اپنی شاعری میںبھی استعمال کر رہے ہیں ،انہوں نے کہا کہ جاذب قریشی کی اب تک 22کتابیں شائع ہوچکی ہیں جن میں 8شعری مجموعے بھی شامل ہےں،

انہوں نے کہا کہ تنقید کے حوالے سے ان کا مجموعہ گواہی میرے عہد کی بھی شائع ہوچکا ہے ، جاذب قریشی نے زندہ شخصیات پر لکھنے کی روایت ڈالی جبکہ عموما دنیا سے چلے جانے والے لوگوں پر لکھا جاتا ہے، اقبال خورشید نے کہا کہ اس دنیائے فانی سے جانا سب ہی کو ہے مگر مشرف عالم ذوقی کا انتقال اس حوالے سے بڑا سانحہ ہے کہ وہ انتقال سے چند روز قبل تک مسلسل اور مستقل لکھ رہے تھے ان میں عصری شعور موجود تھا جو کم لوگوں میں دکھائی دیتا ہے ،وہ فکری جہد کے ساتھ لکھتے تھے اور وہ لکھنے میں کوئی جھجک محسوس نہیں کرتے تھے، ان کی تحریروں میں بولڈنس دکھائی دیتی تھی ،ان کا انتقال دہلی میں کرونا کے باعث ہوا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے