بھارتی ریاست ہریانہ کے وزیر اعلیٰ نے کھلے مقامات پر نماز اور دیگر مذہبی سرگرمیوں کی ادائیگی کے عمل کو ’ناقابل برداشت‘ قرار دے دیا۔
مقامی میڈیا کے مطابق بھارتی ریاست ہریانہ کے وزیر اعلیٰ منوہر لال کھٹر نے کہا کہ نماز اور دیگر مذہبی سرگرمیاں صرف ان کی مخص مخصوص جگہوں پر ادا کی جانی چاہیے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ کھلے مقامات پر نماز یا دیگر مذہبی سرگرمیوں کا عمل’ناقابل برداشت ہوگا۔یہ اقدام گڑگاوں شہر میں ہفتوں کی کشیدگی کے بعد سامنے آیا ہے جہاں انتہا پسند ہندو گروپ نماز کی ادائیگی میں خلل ڈال رہے ہیں اور حکام پر دباو¿ ڈال رہے ہیں کہ وہ مسلمانوں کو کھلی جگہوں پر نماز ادا کرنے سے روکیں۔منوہر لال کھٹر نے کہا کہ حکومت نے پولیس اور ڈپٹی کمشنر کو مطلع کیا ہے کہ اس مسئلے کو حل کرنے کی ضرورت ہے اور مسئلے کو حل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ہر کوئی اپنی اپنی جگہ پر نماز ادا کرے۔انہوں نے کہا کہ ’کوئی نماز پڑھتا ہے، کوئی پاٹھ کرتا ہے، کوئی پوجا کرتا ہے، ہمیں اس سے کوئی مسئلہ نہیں ہے اور مذہبی مقامات صرف ان مقاصد کے لیے بنائے گئے ہیں تاکہ وہاں نماز ادا کی جائے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ نماز یا دیگر مذہبی اجتماعات کی کھلے مقامات پر نہیں ہونے چاہیے، یہاں کھلے مقامات میں نماز پڑھنے کا عمل ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔حکام نے 2018 میں ایک معاہدہ کیا تھا جس کے تحت مسلمانوں کو شہر کے مخصوص علاقوں میں نماز ادا کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔این ڈی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اب اس معاہدے کو واپس لے لیا گیا ہے۔ریاستی وزیر اعلیٰ نے کہا کہ گڑگاوں انتظامیہ تمام فریقوں کے ساتھ ’دوبارہ گفت و شنید‘ کر رہی ہے تاکہ ایک ’خوشگوار‘ حل نکالا جا سکے جو کسی کے حقوق پر تجاوز نہ کرے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے پاس کئی جگہیں ہیں جہاں مسلمانوں کو (نماز کی) اجازت دی جاسکتی ہے۔انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق وزیر اعلیٰ نے کہا کہ وہ اپنے گھروں میں نماز پڑھ سکتے ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ شہر کے سیکٹر 29 اور 44 میں مخصوص مقامات پر نمازوں میں بھی خلل پڑا۔اکتوبر میں گڑگاوں میں نماز جمعہ کے اجتماعات میں خلل ڈالنے پر انتہا پسند ہندو کے گروہوں کے متعدد افراد کو گرفتار کرلیا گیا تھا۔ مقامی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ پولیس نے کئی سو اضافی اہلکاروں کو تعینات کیا تھا اور کم از کم 30 افراد کو گرفتار کیا تھا۔

